.

سعودی عرب پاکستانی فوج کا دستہ بھیجنے پر وزیر دفاع کا سینٹ میں پالیسی بیان

حکومت کا سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کی 'آپریشنل تفصیلات' دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان مجلس شوری کے ایوان بالا [سینیٹ] کے چیئرمین رضا ربانی نے پاکستان فوج کا اضافی دستہ سعودی عرب بھجوانے سے متعلق وزیر دفاع خرم دستگیر کا پالیسی بیان غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

پاک فوج کے دستے کی سعودی عرب روانگی سے متعلق وزیر دفاع خرم دستگیر نے سینیٹ اجلاس کے دوران حکومت کے پالیسی بیان میں کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب سمیت مختلف اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون جاری ہے۔ وزیر اعظم نے فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے کی منظوری دی۔ سعودی عرب میں پاکستان کے 1600 فوجی پہلے سے موجود ہیں اور اب مزید ایک ہزار سے زائد فوجیوں پر مشتمل دستہ جلد بھیجا جائے گا۔ ہمارے فوجی یمن جنگ کا حصہ نہیں۔ ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب صرف تربیتی مشن پر جا رہے ہیں اور وہ سعودی عرب کے اندر رہیں گے.

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے وزیر دفاع کے بیان کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ فوجی دستے بھیجنے سے متعلق ایوان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا، جو بیان آج دیا جا رہا ہے وہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز سے پہلے کیوں نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں پاک فوج کے دستے تعینات ہیں تاہم چند روز قبل پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے بیان جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاک فوج کے مزید دستے سعودی عرب جائیں گے۔

درایں اثنا پاکستان کے وزیر خارجہ احسن اقبال نے کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب میں فوجیوں کے تبادلہ کا دوطرفہ معاہدہ موجود ہے۔ میرا فہم یہ ہے کہ جو وہاں فوج جائے گی وہ کسی لڑائی میں حصہ لینے نہیں جا رہی۔

ادھر پاکستان کی اہم دینی وسیاسی جماعت مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے لاہور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی مملکت پر مختلف سمتوں سے لاحق سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت دباؤ تھا کیونکہ اس کو ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بھاری رقوم بھی صرف کرنا پڑتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب اب تک سیکڑوں میزائل فائر کیے ہیں اور ان میں ایک بیلسٹک میزائل مکہ مکرمہ کی جانب بھی فائر کیا گیا تھا لیکن خوشی قسمتی سے سعودی عرب کے میزائل شکن نظام نے ان تمام میزائلوں کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی سال سے سعودی عرب کو اپنی اہم تنصیبات پر دہشت گردی کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد اور سعودی عرب کے اندر دراندازی میں کامیاب ہونے والے باغی گروپ یہ حملے کرتے رہے ہیں لیکن مملکت کی سکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے ان دہشت گرد اور تخریبی عناصر کے مذموم مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے اور ان کا قلع قمع کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سعودی عرب فوج بھجوانے پر ہمسایہ ممالک کو تشویش نہیں ہونی چاہئے۔