.

پاکستان کی حکمران جماعت کے جلسے میں خاتون کے ساتھ بدسلوکی

ہجوم میں پھنسی خاتون دہائیاں دیتی اور رحم مانگتی رہی لیکن کسی نے دہائی نہ سنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پنجاب کے دارلحکومت لاہور سے 80 کلومیٹر کی مسافت پر واقع شہر پتوکی میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر شہباز شریف کے جلسے کے اختتام پر ایک خاتون کے ساتھ کچھ افراد کی جانب سے بدتمیزی کی گئی، دھکم پیل میں خاتون کو زخمی ہو گئیں۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے روز پیش آیا جب اسلام آباد میں پاکستانی خاتون سیاستدان اور سابق رکن قومی اسمبلی کشمالہ طارق نے وفاقی محتسب برائے انسداد جنسی ہراسانی کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

تفصیلات کے مطابق پتوکی میں مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر شہباز شریف کے جلسے کے اختتام پر ایک خاتون کے ساتھ کچھ افراد کی جانب سے بدتمیزی کی گئی، دھکم پیل میں خاتون کو زخم بھی آئے، جلسے میں شریک دیگر خواتین اور مسلم لیگ (ن) کے ورکرز نے بڑی مشکل سے خاتون کو پنڈال سے نکالا۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔مریم نواز نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ایسے واقعات مسلم لیگ (ن) کی اخلاقیات نہیں ہیں اور اس واقعے میں ملوث افراد کو سخت سزا ملنی چاہیے۔

ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ جلسے میں خواتین کے لیے بہتر انتظامات کیے گیے تھے لیکن خاتون کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ خاتون کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایسے واقعات پی ٹی آئی جلسوں میں ہوتے تھے، واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے گا اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے تمام افراد کے خلاف مقدمہ درج ہو گا اور انہیں گرفتار بھی کیا جائے گا۔

وفاقی محتسب برائے انسداد جنسی ہراسانی کا تقرر

ادھر منگل کے روز پاکستانی خاتون سیاستدان اور سابق رکن قومی اسمبلی کشمالہ طارق نے وفاقی محتسب برائے انسداد جنسی ہراسانی کی حیثیت سے ایوان صدر اسلام آباد میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ان کی تقرری چار سال کے لیے کی گئی ہے۔

قبل ازیں وفاقی حکومت نے یہ تقرری لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے تقرری کے حوالے سے جواب طلب کرنے پر کی تھی کیونکہ یاسمین عباسی گزشتہ ایک سال سے اس عہدے پر اپنی مدت میں توسیع کے بغیر ہی کام کر رہی تھیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے جسٹس ریٹائڑڈ یاسمین عباسی محتسب کے فرائض سر انجام دے رہی تھیں۔

آج ایون صدر میں ہونے والی تقریب میں سینئر سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شریک تھیں۔ حلف اٹھانے کے بعد کشمالہ طارق نے صدر مملکت ممنون حسین سے ایک خصوصی ملاقات بھی کی۔ کشمالہ طارق کا شمار پاکستان کی معروف خواتین سیاستدانوں میں ہوتا ہے اور ماضی میں ان کی شخصیت کے حوالے سے کئی ’متنازعہ خبریں‘ بھی ملکی میڈیا میں چھپتی رہی ہیں۔

صدارتی دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر ممنون حسین نے وفاقی محتسب کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر کشمالہ طارق کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ مؤثر اور فعال انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گی۔ اس موقع پر کشمالہ طارق نے بھی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ وہ ماضی میں بھی خواتین کے حقوق کے لیے اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف کام کر چکی ہیں۔