.

مکہ اور مدینہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ قرآن وسنت کے خلاف ہے

پاکستانی جماعتوں کا جمعہ کو شام میں مظالم کے خلاف یومِ مذمت منانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں نے ایک کانفرنس میں منظور متفقہ اعلامیہ میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ مکہ اور مدینہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ سعودی عرب کی موجودہ حکومت حجاج اور زائرین کے لیے جو خدمات سر انجام دے رہی ہے، وہ قابل قدر ہیں، اس طرح کے مطالبات کرنے والے ارض الحرمین الشریفین کے امن سے کھیلنا چاہتے ہیں جس کی ملتِ اسلامیہ قطعی طور پر اجازت نہیں دے گی۔

کانفرنس کے شرکاء نے شام میں ہونے والے مظالم کے خلاف جمعہ دو مارچ کو ملک بھر میں ’’یومِ مذمت‘‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ ’’ندائے امت کانفرنس‘‘ میں کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ شام میں جاری بحران پر عالمی برادری اور عالم اسلام کی بے حسی اور بے بسی افسوس ناک ہے، پاکستان کے خلاف امریکا ، اسرائیل اور بھارت سازشوں میں مصروف ہیں، ملک کی خارجہ پالیسی کو بہتر کرنے اور دوست ممالک کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر وفود بھیجے جائیں ۔

مقررین نے کہا کہ عالم اسلام کے مسائل کا حل اتحادِ امت میں مضمر ہے، شام، عراق، فلسطین، کشمیر اور یمن کی صورت حال عالم اسلام کی قیادت سے متحد ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے لاکھوں انسانوں کا خون بہا دیا گیا ہے، شام میں بیرونی مداخلت بند کی جائے، روس، امریکا، ایران اور عالمی قوتیں شام کے عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کو دوست اور اسلامی ممالک سے دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ، حکومت کو از سر نو خارجہ پالیسی تشکیل دیتے ہوئے پاکستان کے دوست ممالک سے روابط کو بڑھانا چاہیے اور ان میں پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہیے۔ اعلامیے میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بھارت پاکستان کے دوست ممالک اور بالخصوص اسلامی ممالک میں وطنِ عزیز کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے اور ایران کا بھارت کو چا بہار بندرگاہ لیز پر دینا کسی بھی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

بھارت کے خفیہ ادارے داعش کے ذریعے پاکستان افغانستان سرحد کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت داعش کو سب سے زیادہ اسلحہ سپلائی کرنے والا ملک ہے، ان حالات میں بھارت چا بہار بندرگاہ کو خطے میں بد امنی پھیلانے اور پاکستان کے خلاف سازشوں میں استعمال کر سکتا ہے، ایرانی قیادت کو بھارت کے ساتھ اس معاہدے پر غور کرنا چاہیے اور پاکستانی حکومت کو ایرانی حکومت کے ساتھ اس صورت حال پر مذاکرات کر کے بھارتی مداخلت کا حل نکالنا چاہیے۔

اعلامیے میں پاکستان کے فوجی دستے کو سعودی عرب میں تربیت اور مشاورت کے لیے بھیجنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ ارض الحرمین الشریفین کا دفاع ، استحکام اور سلامتی ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور پاکستان جس طرح دیگر ممالک کے کیڈٹس کو تربیت دے رہا ہے، اسی طرح سعودی عرب کے سلامتی کے اداروں اور مسلح افواج کو تربیت اور مشاورت دے رہا ہے جس پر اعتراض کسی بھی صورت مناسب نہیں۔

اعلامیے میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا دنیا کے امن سے کھیلنا چاہتا ہے لہٰذا اسلامی ممالک اور عالمی دنیا امریکا کے اس اقدام کو رکوانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے ۔کانفرنس میں امریکا کی طرف سے پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کروانے کی کوششوں اور سازشوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

کانفرنس سے خطاب کر نے والوں میں مولانا عبد الحمید وٹو، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا یوسف شاہ، مولانا فہیم الحسن تھانوی، مولانا زبیر عابد ، مولانا عبد الحمید صابری، مولانا نعمان حاشر ، مولانا ابو بکر حمزہ ،مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا قاسم قاسمی ،مولانا محمد اسلم قادری، مولانا عبد القیوم ، قاری سعید ، قاری نعیم، مولانا شہباز احمد، قاری عبد الولی ، مولانا الیاس مسلم ، مولانا محبوب الرحمن ، مولانا محمد نائب خان سبحانی ، مولانا سلطان محمود ضیاء، مولانا اسحاق صابر ، مولانا طاہر عقیل اعوان، مفتی زاہد منان، مولانا شفیق الرحمن، مولانا عابد، مولانا شفیق الرحمن، سعید افضل شاہ الحسینی، مفتی کفایت اللہ، مولانا عالم زیب اور مولانا حسان شامل تھے۔