عمران خان کے بنی گالا کے گھر کا این او سی جعلی نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی حزب اختلاف کی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے اسلام آباد کے نواحی علاقے بنی گالا میں گھر کی تعمیرات کے لئے این او سی کو جعلی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تحریری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی جس میں ان کے بنی گالا گھر کے نقشے اور این او سی کے حوالے سے اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جمع کروائی جانے والی 13 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق یونین کونسل بہارہ کہو کے سابق سیکریٹری محمد عمر نے اپنے بیان میں بنی گالا گھر کے این او سی کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ 2003 میں یو سی بہارہ کہو میں سیکریٹری تعینات تھے اور اس دوران یونین کونسل نے بنی گالا میں عمران خان کے گھر کی تعمیر کے لئے کوئی این او سی جاری نہیں کیا جب کہ عدالت کو فراہم کی گئی دستاویز پر تحریر بھی یونین کونسل کی نہیں ہے۔

سابق سیکریٹری کے مطابق 2003 میں یونین کونسل کے دفتر میں کمپیوٹر کی سہولت ہی موجود نہیں تھی اس وقت یونین کونسل کے تمام امور ہاتھ سے نمٹائے جاتے تھے، سابق سیکریٹری نے کہا کہ عمران خان سے درخواست پر مزید کارروائی کے لئے بنی گالا کا نقشہ طلب کیا گیا تھا لیکن نقشہ فراہم نہیں کیا گیا جس کے بعد مزید کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

دوسری طرف 1987 سے 1991 تک چیئرمین یونین کونسل رہنے والے محمد یعقوب ملک نے بھی کہا ہے کہ میں نے نہ تو عمران خان کی زمین کا نقشہ پاس کیا اور نہ ہی کوئی این او سی جاری کیا، انہوں نے اعتراف کیا کہ جو خط عدالت میں پیش کیا گیا ہے وہ ان کے دستخط سے جاری ہوا وہ دستخط انہی کے ہیں لیکن کسی نے دستخط شدہ کاغذ کو کسی طرح آفس سے حاصل کر کے مضمون تیار کیا ہے جس پر ان کا نام بھی درست نہیں لکھا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں