ڈاکٹر شاہد مسعود کے زینب کے قاتل سے متعلق تمام دعوے اور انکشافات جھوٹ قرار

ٹی وی اینکر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنے تمام 18دعووں کے حق میں کوئی ایک بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عدالت ِ عظمیٰ کے حکم پر قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) نے معروف ٹیلی ویژن اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کے قصور میں کم سن مقتولہ زینب کے قاتل عمران علی سے متعلق تمام اٹھارہ انکشافات اور دعووں کو جھوٹ قرار دے دیا ہے۔ ٹیم نے اپنی رپورٹ جمعرات کو عدالت ِعظمیٰ میں پیش کردی ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے گذشتہ ماہ اپنے پروگرام میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ملزم (اب مجرم ) عمران علی ایک پورنو گرافی گینگ کا فعال رکن ہے اور اس کے مختلف بنکوں میں سینتیس اکاؤنٹس ہیں ۔ ان میں بعض غیرملکی اکاؤنٹس ہیں ۔ان کے بہ قول ملزم کے ایک بنک کھاتے میں پندرہ لاکھ یور و کی رقم منتقل کی گئی تھی لیکن بنک دولت پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ملزم کے اس طرح کے کوئی بنک کھاتے نہیں ہیں بلکہ اس کا سرے سے کوئی اکاؤنٹ ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان ، جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ان دعووں کے بعد عدالت میں ثبوت پیش کرنے کے لیے طلب کیا تھا اور انھوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس تمام دھندے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک وزیر اور ایک اہم شخصیت بھی ملوث ہے ۔انھوں نے اس کا نام نہیں بتایا تھا بلکہ جج صاحبان کو ایک کاغذ پر لکھ کر پیش کردیا تھا۔

لیکن بعد میں ڈاکٹر شاہد مسعود عدالتِ عظمیٰ میں زینب قتل کیس کے گرفتار ملزم عمران علی کے بنک کھاتوں کے بارے میں کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے تھے ۔ عدالتِ عظمیٰ نے ان کے دعووں کی تحقیقات کے لیے ایک نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی ) تشکیل دی تھی اور ڈاکٹر شاہد مسعود کو حکم دیا تھا کہ وہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر احمد میمن کی سربراہی میں اس نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں اور اپنے دعووں کے حق میں ثبوت پیش کریں۔

اس ٹیم نے اپنی تحقیقات کی تکمیل کے بعد عدالت عظمیٰ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے کسی ایک دعوے کا بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور قاتل عمران غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے کسی بین الاقوامی بنک اکاؤنٹ کے بارے میں بھی کوئی ثبوت ملا ہے اور نہ اس کا کوئی ایسا بنک کھاتہ موجود ہے۔

رپورٹ میں اس امکان کو بھی مسترد کردیا گیا ہے کہ مجرم عمران علی کو کسی با اثر سیاست دان کی پشت پناہی حاصل تھی۔اس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے اس دعوے کو بھی غلط قرار دیا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران میں کوئی قاتل عمران کو طبی طور پر پاگل یا نفسیاتی مریض ثابت کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔جے آئی ٹی نے کہا ہے کہ شاہد مسعود اپنے ان تمام دعووں کے حق میں کوئی ایک بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس ،جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ’’آپ نے الزام عاید کیا تھا کہ ملزم عمران علی کے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس ہیں اور وہ انھیں اندرون اور بیرون ملک چلا رہا تھا ۔ آپ ہمیں ان 37 اکاؤنٹس کے ثبوت دیں۔اگر آپ ان کا کوئی ایک ثبوت بھی نہیں دے رہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے الزامات درست نہیں‘‘۔

انھوں نے کہا تھاکہ ’’ہم شاہد مسعود کے کیس کو مثال بنا دیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے تاکہ کل کو کوئی اور شاہد مسعود ٹی وی پر آ کر اس طرح کی بات نہ کرے‘‘۔انھوں نے ٹی وی اینکر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں