دُہری شہریت کے حامل نومنتخب سینیٹروں کو چیئرمین کے انتخاب میں ووٹ دینے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے دُہری شہریت کے حامل نومنتخب ارکان کو حلف اٹھانے اور 12 مارچ کو ہونے والے چئیرمین کے انتخاب میں ووٹ دینے کی اجازت دے دی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اس ضمن میں ہفتے کے روز ایک عبوری حکم جاری کیا ہے اور اس از خود کیس کی سماعت کے لیے ایک سات رکنی بڑی بینچ بھی تشکیل دی ہے۔وہ اس معاملے کے مکمل جائزے اور سماعت کے بعد حتمی فیصلہ سنائے گی۔

عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دُہری شہریت کے حامل پانچ نومنتخب سینیٹروں کی کامیابی کے نوٹی فیکشن بھی جاری کرنے کا حکم دےیا ہے۔اس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کی کامیابی کا مشروط نوٹی فیکشن جاری کردیا ہے اور اس میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کو عدالتِ عظمیٰ کے مستقبل میں حتمی فیصلے کی روشنی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ میں قبل ازیں اس کیس کی سماعت کے موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اگر پانچ نومنتخب سینیٹروں کو مستقبل میں نااہل قرار دے دیا جاتا ہے تو پھر سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کی حیثیت کیا رہے گی ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس کے جواب میں کہا کہ ’’ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور سات رکنی بینچ اس معاملے کا مکمل جائزہ لے گی‘‘۔

دُہری شہریت کے حامل پانچ سینیٹروں میں تین کا تعلق حکمراں مسلم لیگ نواز سے ہے۔ان میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی بہن سعدیہ عباسی ، نزہت صادق اور ہارون اختر خان شامل ہیں ۔ایک نومنتخب سینیٹر چودھری محمد سرور کا تعلق پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے اور صوبہ بلوچستان سے خدا بابر آزاد حیثیت میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

چودھری محمد سرور نے آج عدالت کو بتایا کہ انھوں نے 2013ء میں برطانوی شہریت ترک کردی تھی لیکن عدالت نے ان سے پوچھا کہ اگر ان کا خاندان بد ستور برطانوی شہری ہے اوران کی تمام دولت بیرون ملک ہے تو پھر پاکستان میں ان کا کیا مفاد وابستہ ہے۔ چیف جسٹس نے چودھری سرور سے کہا کہ وہ ان سوالات پر عدالت کو مطمئن کریں۔

چیف جسٹس نے دُہری شہریت کے حامل سرکاری ملازمین سے متعلق اس ازخود نوٹس کیس کی گذشتہ سماعت کے موقع پر مذکورہ پانچ نومنتخب سینیٹروں کو ایک حلف نامہ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس میں یہ اعلان کیا گیا ہو کہ انھوں نے مستقل طور پر غیر ملکی شہریت کو خیرباد کہہ دیا ہے اور ان کا یہ فیصلہ ناقابل تنسیخ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں