بین المذاہب مکالمے سے اسلام اور مغرب فاصلے ختم ہو سکتے ہیں: امام مسجد الحرام

سعودی عرب اور پاکستان دہشت گردی کا زیادہ شکار ہوئے: الشیخ صالح بن محمد آل طالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مقدس ترین شہر مکہ المکرمہ کی مسجد الحرام کے امام الشیخ صالح بن محمد آل طالب نے کہا ہے کہ بین المذاہب مکالمے کے ذریعے اسلام اور مغرب کے مابین فاصلے ختم کئے جا سکتے ہیں۔ "سعودی عرب اور پاکستان امت مسلمہ کے دو اہم ممالک ہیں، دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار سعودی عرب اور پاکستان ہوئے۔"

معاصر عزیر "جنگ" اور "جیو نیوز" کے سینیئر صحافیوں سے ملاقات میں امام مسجد الحرام کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کی سب سے زیادہ کوششیں بھی سعودی عرب اور پاکستان نے کیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش ہمارے دشمنوں نے بنا ئی اور اس کا شکار ہمارے نادان ساتھی بھی ہوئے، یہ تنظیم اب آخری سانسیں لے رہی ہے۔

امام مسجد الحرام کا کہنا ہے کہ امت مسلمہ کا اتحاد صرف قرآن وسنت پر ہی ہو سکتا ہے۔ ہر گروہ اگر نیا دین بنالے تو یہ ممکن نہیں کہ اتحاد ہو سکے۔ سعودی عرب اور پاکستان نے کبھی کسی دوسرے ملک میں مسلمانوں کے قتل عام کے لیے کبھی لوگ نہیں بھیجے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک کا اتحاد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قائم کیا۔ اس اتحاد میں پاکستان سب سے بڑا اتحادی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا نے کہا کہ شدت پسندی اور فرقہ واریت نے اسلامی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ قرآن وسنت کی بنیاد پر ملت اسلامیہ کو متحد رکھا جا سکتا ہے۔ متعصبانہ رویے ختم کرکے اسلامی معاشروں کو انتہا پسندی سے بچایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں