.

حزبِ اختلاف کے صادق سنجرانی سینیٹ کے چیئرمین اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں اور آزاد سینیٹروں کے متفقہ امیدوار صادق سنجرانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے چئیرمین اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں اور انھوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کے لیے صادق سنجرانی کا مقابلہ حکمراں پاکستان مسلم لیگ نواز اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار راجا ظفرالحق سے تھا۔انھوں نے کل ڈالے گئے 103 ووٹوں میں سے 57 ووٹ حاصل کیے جبکہ راجا ظفرالحق کے حق میں 46 ووٹ ڈالے گئے۔سینیٹ کے نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا گیا ہے۔

صادق سنجرانی 3 مارچ کو منعقد انتخاب میں سینیٹ کے آزاد رکن منتخب ہوئے تھے ۔وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے پہلے چیئرمین ہیں۔انھیں پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ( ایم کیو ایم -پی) ، پاکستان تحریک ِانصاف ( پی ٹی آئی ) ،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے آزاد سینیٹرو ں اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں ( فاٹا) سے تعلق رکھنے والے آٹھ سینیٹروں کی حمایت حاصل تھی۔انھوں نے آخری وقت میں تیل کی دھار دیکھ کر صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

چیئرمین کے انتخاب سے قبل نومنتخب 51سینیٹروں نے اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ان میں صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والی نومنتخب سینیٹر کرشناکماری کوہلی بھی شامل تھیں۔ وہ ہندوؤں کے ذات پات کے نظام میں سب سے نچلے درجے کی ذات دلت سے تعلق رکھتی ہیں۔وہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایوان بالا کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

صادق سنجرانی نے چیئرمین منتخب ہونے کے بعد سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا عمل شروع کرادیا ۔پی پی پی نے اس عہدے کے لیے سلیم مانڈوی والا کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا ۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ نواز اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سینیٹر عثمان کاکڑ کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ان کا تعلق بلوچستان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں سلیم مانڈوی والا نے 54 ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل عثمان کاکڑ صرف 44 ووٹ حاصل کرسکے ہیں۔