آرمی چیف سے جواد ظریف کی ملاقات، علاقائی سلامتی اور پاکستان - ایران تعلقات پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ خطہ کے امن کا انحصار مغربی ایشیاء میں وسیع تعاون پر منحصر ہے ہم سب کو بین الاقوامی سطح پر جرائم کے خطرات کو ختم کرنے اور سلامتی کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے منگل کے روز راولپنڈی میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور،علاقائی سلامتی اور پاک ایران تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے حالیہ مہینوں کے دوران دوطرفہ سیکیورٹی انتظامات اور پاک ایران بارڈر کی سیکیورٹی میں بہتری کے لیے دونوں جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔

پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو سے متعلق جتنی بھی معلومات تھیں وہ پاکستان کو فراہم کردی ہیں۔ ایران سی پیک منصوبے کا خیرمقدم کرتا ہے اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں ایران چین کو بھی شامل کرنے کے لئے تیار ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آئندہ بھی سہولت کاری کے لئے تیار ہیں۔

انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز 2 خود کش حملہ آوروں نے ایران میں داخلے کی کوشش کی جسے پاکستان کی مدد سے ناکام بنادیا گیا۔ جواد ظریف نے کہا کہ کسی کو بھی ایران کی سرزمین پاکستان کے خلاف ہر گز استعمال کرنے نہیں دیں گے جبکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق تمام معلومات پاکستان کو فراہم کردیں۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے سے پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں آئندہ بھی تعاون جاری رکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں