.

نقیب اللہ محسود قتل کیس کا مرکزی ملزم راؤ انوار سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نقیب اللہ قتل کیس میں مفرور ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے، جس کے بعد انہیں عدالتی حکم پر گرفتار کر لیا گیا۔

سپریم کورٹ نے راؤ انوار کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا اور ان کی حفاظتی ضمانت منسوخ کر دی۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے راؤ انوار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اتنے دن کہاں چھپے تھے، آپ تو بہادر اور دلیر تھے؟ آپ کو یقین دہانی کرائی تھی پھر بھی آپ نے عدالت پر اعتماد نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے راؤ انوار سے کہا کہ ہم نے آپ پر اعتماد کیا آپ نے خود کو سرنڈر کیوں نہیں کیا،ہم کمیٹی بنا رہے ہیں جو کچھ کہنا ہے کمیٹی میں کہنا،عدالت نے آپ کو وقت دیا،ہم جے آئی ٹی بنا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے راؤانوار کی حفاظت یقینی بنانے کا حکم بھی دیا۔

راؤ انوار کے وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل نے عدالت کے سامنے سرینڈر کر دیا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آپ بڑے دلیرتھے، کہاں تھے اتنے دن؟ آپ عدالتوں کو خط لکھ رہے تھے، جو خط لکھے گئے ہیں ان کا تاثر درست نہیں، آپ کو موقع دیا، آپ نے عدالت پر اعتبار کیوں نہیں کیا؟

اس سے پہلے راؤ انوار سیاہ لباس پہن کر اور چہرے پر ماسک لگا کر سفید رنگ کی گاڑی میں عدالت پہنچے۔

ان کے ہمراہ اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تھی جس نے انہیں گھیرے میں لے رکھا تھا۔

قبل ازیں راؤ انوار کو چیف جسٹس پاکستان نے ہدایت دی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے وہ خود کو عدالت میں پیش کر کے اس کی پناہ میں آجائیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کے پاس اب بھی مہلت ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوجائیں، اگر راؤ انوار عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو ان کی جان بچ سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ راؤ انوار کا اگر کوئی سہولت کار ہے تو اس کا پتہ چلایا جائے۔