.

کسی کے کفر کا فیصلہ عدالت اور جہاد کا اعلان ریاست کا حق ہے: مفتی دیار مصر

مفتی اعظم جامعہ الازہر کا گول میز کانفرنس سے خطاب اور صدر مملکت سے ملاقات میں اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وزارت مذہبی امور کی دعوت پر ملک کا دورہ کرنے والے مصر کے مفتی اعظم شوقی ابراہیم نے بدھ کو اسلام آباد میں صدر ممنون حسین سے ملاقات کی۔

مصری مہمانوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے علماء ومشائخ پر زور دیا وہ مسلمان ملکوں کو غیر ملکی ثقافتی یلغار سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی علماء ومشائخ نےانتہا پسندی کے خلاف "پیغام پاکستان" کے عنوان سے فتویٰ جاری کیا جو دہشت گردی کے ناسور کے خلاف جنگ میں بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

مصر کے مفتی اعظم نے یوم پاکستان کے موقع پر صدر اور پاکستانی قوم کو مبارکباد دی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی گول میز کانفرنس میں مصری عالم دین کی شرکت

درایں اثنا اسلامی نظریاتی کونسل میں گول میز کانفرنس میں مفتی اعظم جامعہ الازہر شوقی محمد ابراہیم عبد الکریم نے دہشت گردی وانتہا پسندی توہین وتکفیر کو حرام قرار دیتے ہوئے پاکستان کی طرف سے دیئے گئے قومی فتوی وبیانیہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کے کفر کا فیصلہ عدالت جبکہ جہاد کا اعلان ریاست ہی کر سکتی ہے۔

گول میز کانفرنس میں مفتی اعظم جامعہ الازہر شوقی محمد ابراہیم عبد الکریم نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ کانفرنس کا عنوان دہشت گردی وانتہا پسندی کے خلاف قومی بیانیہ تھا۔ کانفرنس میں پاکستان کی طرف سے جاری کئے گئے قومی بیانیہ کی اہمیت اور عمل پر غور کیا گیا۔

مفتی اعظم شیخ جامعہ الازہر ڈاکٹر شوقی ابراہیم عبد الکریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی متفقہ بیانیہ پر علمائے کرام اور ریاست پاکستان کو مبارکباد دیتا ہوں دہشت گردی پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے دہشت گردی کے خلاف مصر اور پاکستان کی سوچ ایک ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب کی ہے پاکستان کا قومی بیانیہ بین الاقوامی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اس کی تائید کرتا ہوں داعش جیسی تنظمیں گمراہی پھیلا رہی ہیں۔ تکفیر کے فیصلے افراد نہیں عدالتوں کو کرنے چاہیں۔ فتوی دینے کا حق مفیتیان عظام کو ہے چند کتابیں پڑھ کر غاروں میں رہنے والوں کو نہیں نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے مخاطب کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سرحدوں پر یقین نہ رکھنے والی سوچ کا بھی مقابلہ کرنا ہو گا۔ داعش مسلم نوجوانوں کے لئے خطرہ ہے جو انہیں روزانہ تیس ہزار پیغامات بھیجتی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر قانون بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ ہمیں یہ متفقہ بیانیہ کیوں بنانا پڑا۔ اگر مسلم دنیا ترقی کے میدان میں دنیا کے ساتھ چلتی تو شاید شدت پسندی جنم نہ لیتی۔ ہر معاشرے کو درپیش مسائل کا مقابلہ کرنے سے صحت مند معاشرہ بناتا ہے، بصورت دیگر معاشرے کو موت آجاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سوشل سائنسز میں آج دنیا اپنی معراج پر لیکن امہ ابھی تک یہ ادراک ہی نہیں کر سکی۔ ماڈرن معاشرے میں فتوی کی کیا اہمیت ہو گی، یہ کیا افراد دیں گے یا ریاست دے گی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے حقوق انسانی کی بحث خصوصا خواتین، بچوں اور اقلیتی عوام کے حوالے ابھی تک اسلامی دنیا کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکی۔ انسانی حقوق کے حوالے سے دنیا اس مسائل کے حل میں بہت آگے جا چکی ہے۔ ایک خلافت یا حکومت پوری دنیا پر حکمرانی نہیں کر سکتی۔

خلافت راشدہ کے بعد یہ کبھی ممکن ہی نہیں رہا ہمیں قرآن و حدیث کو اٹل مانتے ہوئے جدید مسائل کا حل نکالنا ہوگا اسی سے اسلامی معاشروں سے شدت پسندی ختم ہوگی آج شدت پسندی اور دہشت گردی جس روپ میں ہے کل یہ بدل بھی سکتی ہے۔ ہمیں چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ کل تک حرم میں موبائل فون حرام تھا آج اس کے ضرورت سے زائد احترام کی وجہ سے وہاں عبادات حرام ہوگئی ہیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت جدید مسائل کا حل نکالنا اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں کا کام ہے۔

ڈاکٹر آفتاب احمد نے کہا کہ پیغام پاکستان قومی دستاویز ہے جو پاکستان کے لئے راہ عمل متعین کرتا ہے قومی متفقہ بیانیہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی متفقہ آواز وتائید ہے یہ فتوی ایک سال کی محنت سے تیار کیا گیا۔ آئین پاکستان اسلامی آئین ہے فتوی کے مندرجات میں کہا گیا ہے کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کرسکتی ہے۔

قرآن وسنت کے نفاذ کے لئے پرامن جہدوجہد کرنا ہر پاکستانی کا حق ہے۔۔ سیکیورٹی فورسز کو غیر مسلم قرار دینا غلط اور ان سے لڑائی بغاوت ہے ضرب عضب اور رد الفساد کی مکمل تائید کی جاتی ہے۔ خودکش حملے قطعی حرام ہیں۔ فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف قومی ادارے ایکشن لیں۔ جہاد کے نام پر دہشت گردی قطعی حرام ہے کسی بھی نبی امہات المومنین صحابہ کرام اہلبیت عظام کی توہین حرام ہے ایسا کرنے والے خلاف توہین مذہب کی دفعات عملا لاگو کی جائیں کسی کے کفر کا فیصلہ عدالت اور ریاست ہی کر سکتی ہیں۔