.

امام حرم مکی اور مفتی اعظم مصر کی پیغام پاکستان کے بیانیے کی مکمل تائید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امام حرم مکی اور مفتی اعظم مصر کی جانب سے "پیغام پاکستان" کے بیانیے کی مکمل تائید بڑی کامیابی ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے مذہبی رواداری کے فروغ پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کے موقع پرکہی۔

تفصیلات کے مطابق وزارتِ مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی نے گذشتہ روز تعلیماتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں رواداری کے فروغ پر کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کے مہمانِ خصوصی مفتی اعظم مصر ڈاکٹر شوقی ابراہیم العلام، کرغرستان، مراکش، سعودی عرب، یورپی یونین کے سفیروں سمیت کئی ملکی وغیر ملکی علماء ومشائخ اور غیر مسلم شخصیات نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ رواداری کے معنی صبر وبرداشت اور مذہبی رواداری کا مطلب دوسرے مذہب سے متعلق افکار اور نظریات کا احترام ہے۔پیغمبر رحمتﷺ کی سیرت طیبہ رواداری، صبر، برداشت اور عفو در گزر سے عبارت ہے۔ کسی انسان کو اسلام اختیار کرنے کے لیے مجبور نہ کرنا دین اسلام کی رواداری کا ایک بنیادی اصول ہے۔

اسلام میں کسی قوم پر غالب آ جانے کے بعد بھی دوسرے دین پر ظلم وزیادتی جائز نہیں ہے۔ انہوں نے رواداری کے فروغ کیلئے موجودہ حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ رواداری کے فروغ و پر چار کے لیے علما مشائخ کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہےجبکہ وزارت کی سطح پر مذہبی ہم آہنگی پر بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا انعقاد، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات ، نفرت انگیز مواد کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں سے موثر رابطے، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے نیشنل کمیشن کا قیام اور پیغام پاکستان میں موجود بیانیہ کی تر تیب و تشہیر کیلئے کام کیا گیا ہے۔ پیغام پاکستان میں موجود بیانیے کو جید علماء کرام و مشائخ عظام کی اکثریت کی تائید حاصل ہے جبکہ امام حرم مکی اور مفتی اعظم، مصر نے بھی پیغام پاکستان کے بیانیے کی مکمل تائید کی ہے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہماری کوشش سے ملک پاکستان اور عالم اسلام سے عدم برداشت کا خاتمہ اور رواداری کا فروغ ہو گا۔

اس سے قبل مفتی اعظم مصر نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مشترکہ مصلحت اور عوامی بھلائی کے کاموں میں تعاون کیلئے تیار ہیں۔ اسلام امن وسلامتی کا پیغام لے کر جزیرہ نما عرب سے نکل کر دنیا کے لئے رحمت بن گیا ۔ اسلام ایک بین الاقوامی دعوت کا نام ہے جس نے پہلی اور بعد والی تہذیبوں کو اپنے ساتھ شامل کیا ہے۔ اسلام نے اچھی رسومات کو برقرار اور غلط رسومات کا خاتمہ کیا ہے۔ حضور نبی رحمت ﷺ کی بعثت کا مقصد انسانی کردار کو بہترین اور عمدہ ترین اخلاق والا بنانا تھا۔ دار الافتاء مصر پوری دنیا میں فتوی کی اہلیت رکھنے والےلوگوں کےدرمیان ایک حقیقی رابطہ کا ذریعہ ہے۔ جامع الازہر اور دارلافتاء مصر نے دہشت گردی کی لہر کے مقابلے میں اہم کردار ادا کیا۔ دہشت گردی کے مقابلے میں مصر نے اپنے بیٹے قربان کیے ہیں اور کر رہا ہے۔

وزیر مملکت مذہبی امور پیر محمد امین الحسنات شاہ نے کانفرنس کے تعارفی کلمات میں کہا کسی کو نا حق، غلط، اور گمراہی پر جانتے ہوئے اسے برداشت کر نا، اس کے حقوق حریت تسلیم کرنارواداری ہے۔ دوسرے ادیان، نظریات ، خیالات ، مسالک اور ان کے ماننے والوں کو برداشت کرنا اور ان کے حقوق تسلیم کرناروادی ہے ۔ ہمیں غیر مسلموں سمیت مختلف مسلکوں اور مذاہب کے پیروکاروں سے باہمی رواداری کا درس ملتا ہے۔ اللہ تعالی کے تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان اور احترام کے بغیر اسلام نام نامکمل ہے ۔ اسلام میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت لازم ہے ۔

مشیر قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ مسلمانوں کے مختلف مسلکوں ، گروہوں اور فرقوں کی بنیاد پر ان کے درمیان جنگ و جدل اور باہمی چپقلش دشمن کی خواہش ہے۔ پیغام پاکستان میں غیر مسلم یا دوسرے مسالک کے افراد کے قتل ناحق اور خود کش حملوں کی مذمت کی گئی ہے ۔

ان کے خطاب سے قبل اسلام ریلیف اور ولڈ لیگ کے ڈاکٹر عبدو ، ڈاکٹر یاسین ظفر، ڈاکٹر راغب نعیمی، مولانا حنیف جالندھری، ڈاکٹر عطا الرحمان ، علامہ عارف وحدی، پنڈت چنن لال قبل متعدد علماء ومشائخ نے اسلام میں درواداری کی اہمیت اور مغرب کے دوغلے پن پر تفصیلی بات کی۔