.

پاکستان میں پنچایت کے حکم پر 'زیادتی' کے بدلے 'زیادتی' کا دلخراش واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں انصاف کے نام پر انسانیت دفن ہو گئی۔ وسطی پنجاب کے علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جہالت اور بے حسی نے رشتوں کا خون کردیا۔

لڑکی سے زیادتی کے جرم میں بیٹا پولیس کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ ملزم کے اہل خانہ نے اپنے گھر کی بیٹی زیادتی کے لیے حوالے کر دی۔ پنچایت کے حکم پرمتاثرہ لڑکی کے بھائی نے زیادتی کرکے اپنا بدلہ لے لیا۔

دو لڑکیوں کی زندگی برباد ہونے کا راضی نامہ ہوا تو پولیس کی آنکھیں کھلیں، جس کے بعد مکروہ فیصلہ سنانے والے 8 افراد اور زیادتی کے دونوں ملزم 24 مارچ کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیئے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 20 مارچ کو ایک شخص نے پڑوس میں رہنے والی ایک لڑکی کو اپنی گھناؤنی خواہشات کے بھینٹ چڑھا دیا تو لڑکی کے ورثاء نے پولیس میں جانے کے بجائے پنچایت میں زیادتی کے بدلے ملزم کی بہن سے زیادتی کی شرط رکھ دی۔

بیٹے کو گرفتاری سے بچانے کے لیے ملزم کے گھر والوں نے اپنا ہی خون، اپنی بیٹی درندوں کے حوالے کر دی۔ پنچایت کے حکم پر لڑکی کے بھائی نے زیادتی کے بدلے زیادتی کر کے اپنا "بدلہ" چکا دیا۔

اکیس مارچ کو دوسری لڑکی 2 خاندانوں کی انا کی قربان گاہ پر اپنے آپ کو لٹا بیٹھی۔ اس سارے گھناؤنے کھیل کے دوران علاقے کی پولیس آنکھ بند کیے بیٹھے رہی تاہم 2 لڑکیوں کی زندگی برباد ہونے کا راضی نامہ سرکاری کاغذ پر ہونے لگا تو اندھا قانون حرکت میں آیا۔