.

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس پاکستان سے تنہائی میں غیر معمولی ملاقات

وزیر اعظم کا چیف جسٹس کے ویژن کے مطابق عدالتی نظام کی تشکیل نو کے لیے تمام ممکنہ امداد کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے چیف جسٹس ، جسٹس میاں ثاقب نثار سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سپریم کورٹ میں منگل کی شب تنہائی میں غیر معمولی حالات میں ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم اپنے کسی روایتی پروٹوکول کے بغیر شام سات بجے کے قریب سپریم کورٹ کی عمارت میں چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے آئے تھے اور جناب چیف جسٹس نے بہ نفس نفیس سپریم کورٹ کے داخلی دروازے پر ان کا خیرمقدم کیا۔وہ انھیں اپنے چیمبر میں لے گئے جہاں ان کے درمیان کوئی دو گھنٹے تک ملاقات جاری رہی۔

عدالت ِعظمیٰ کی جانب سے ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان کے مطابق :’’ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چیف جسٹس کے ویژن کے مطابق پاکستان میں عدالتی نظام کی تشکیل نو کے لیے تمام ممکنہ امداد مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے‘‘۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’’ حکومت عوا م کو تیز رفتار اور سستا انصاف مہیا کرنے کے لیے عدلیہ کو تمام وسائل مہیا کرے گی۔اس کے علاوہ وہ عوام کی انصاف تک آسان رسائی یقینی بنانے کے لیے بھی سہولتیں مہیا کرے گی‘‘۔

انھوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) اور محکمہ ٹیکس کو عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے پیش نظرمحصولات اکٹھا کرنے کے ضمن میں درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔اس پر چیف جسٹس نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو خود دیکھیں گے اور ٹیکسوں سے متعلق زیر التوا مقدمات کو تیزی سے نمٹایا جائے گا۔

’’ملاقات کا نامناسب وقت‘‘

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ یہ ملاقات اگرچہ کوئی انہونا واقعہ نہیں لیکن اس کا وقت مناسب نہیں تھا۔

انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے اس تبصرے کے دفاع میں کہا کہ ’’اس وقت اعلیٰ عدلیہ اور احتساب عدالتوں میں عباسی کابینہ میں شامل بعض وزراء کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں ۔آج کی اس ملاقات سے قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہوگا‘‘۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتی فعالیت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ انھوں نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ان کی حکومت کو اپنے تفویض کار نمٹانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس مسئلے پر پارلیمان میں بحث اور مکالمہ ہونا چاہیے کہ کون سا ادارہ بالا تر ہے۔

ان کے ان کلمات کے ردعمل میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’’ پارلیمان سپریم ضرور ہے لیکن آئین اس سے بالا تر ہے‘‘۔انھوں نے واضح کیا تھا کہ پارلیمان آئین کے منافی کوئی قانون نہیں بنا سکتی ہے۔