.

’’نواز شریف کے بچوں نے پاناما گیٹ جے آئی ٹی کو جعلی کاغذات جمع کرائے تھے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی ایک احتساب عدالت میں ایون فیلڈ فلیٹس کی خریداری سے متعلق ریفرینس کی سماعت کے دوران میں استغاثہ کے گواہ اور پاناما گیٹ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی ) کے سربراہ واجد ضیاء نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے تینوں بچوں مریم نواز اور ان کے دونوں بھائیوں حسن اور حسین نے تحقیقات کے وقت جعلی کاغذات جمع کرائے تھے۔

واجد ضیاء نے احتساب عدالت میں آج منگل کو بھی ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کے خلاف اپنا بیان قلم بند کرایا تھا۔یہ سابق وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو ( نیب ) کی جانب سے دائرکردہ تین ریفرینسوں میں سے ایک ہے۔ وہ عدالت میں پانچ مرتبہ پہلے بھی پیش ہوچکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کی جانب سے دو آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی جمع کرائی گئی ٹرسٹ ڈیڈز کو لندن میں قائم ایک فرم ریڈلے فورینزک ڈاکومینٹ لیبار یٹری کو فورینزک تجزیے کے لیے بھیجا تھا۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس فرم کی جانب سے جاری کردہ فورینزک رپورٹ کی بنیاد پر جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ یہ دستاویز جعلی ہیں۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملزموں نے ان دستاویزات کی تاریخوں میں تبدیلی کی تھی اور 2004ء کو 2006ء سے تبدیل کردیا تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ فلیٹ 1990ء کے عشرے میں خرید کیے گئے تھے اور اس وقت میاں نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز لندن میں زیر تعلیم تھے۔

عدالت نے نیب کی قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم بن جابر آل ثانی اور ورجین آئی لینڈز کے خطوط اس کیس میں شواہد کے طور پر شامل کرنے کی درخواست منظور کر لی۔عدالت نے مقدمے کی سماعت کل 28 مارچ تک ملتوی کردی ہے ۔واجد ضیاء دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گے اور وکیل صفائی ان سے سوالات کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال مریم نواز نے پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کے دوران میں کیلبری فونٹ میں لکھی ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرائی تھی۔جے آئی ٹی نے اس ڈیڈ کو اس بنیاد پر جعلی قراردیا تھا کہ یہ فونٹ 2006ء میں دستیاب نہیں تھا۔تاہم گذشتہ ماہ ایک فورینزک ماہر رابرٹ ایم ریڈلے نے عدالت کو بتایا تھا کہ کیلبری فونٹ کا بیٹا ورژن 2006ء میں دستیاب تھا۔

عدالت ِعظمیٰ کے حکم پر قومی احتساب بیورو ( نیب) نے گذشتہ سال معزول وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے تینوں بچوں کے خلاف احتساب عدالت میں بدعنوانیوں کے الزامات میں تین ریفرینس دائر کیے تھے۔یہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ، لیمٹڈ ، ایون فیلڈ ( لندن) کی جائیداد اور جدہ میں قائم العزیزیہ کمپنی اور ہِل میٹل اسٹیبلشمنٹ سے متعلق ہیں۔

سابق وزیراعظم اور ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین نیب کے دائر کردہ ان تینوں ریفرینسز میں ماخوذ ہیں جبکہ مریم نواز شریف اور ان کے خاوند ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایون فیلڈ ریفرینس میں نامزد کیا گیا تھا ۔