.

افغان مہاجرین مزید نوے دن پاکستان میں رہ سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے ملک میں قیام پذیر 20 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کے لیے پاکستان میں قیام کی مدت میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ قبل ازیں ان افغان مہاجرین کو پاکستان چھوڑنے کے لیے 31 مارچ تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق افغان مہاجرین کے معاملات دیکھنے والی وزارت کے ترجمان شوکت اقدس نے آج جمعہ 30 مارچ کو بتایا کہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت مزید تین ماہ بڑھا دی گئی ہے۔ اقدس کے مطابق اس دوران ان کی وطن واپسی کے انتظامات کو مکمل کیا جائے گا۔

پاکستان میں کئی دہائیوں سے قیام پذیر افغان مہاجرین کو اس وقت سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جب رواں برس کے آغاز میں پاکستانی کابینہ نے تمام افغان مہاجرین کو ملک چھوڑ دینے کا کہا تھا۔ اس مقصد کے لیے جنوری کے آخر تک کا وقت دیا گیا تھا تاہم بعد میں اس ڈیڈ لائن میں مارچ کے آخر تک کی توسیع کر دی گئی تھی۔

افغان حکام اور اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (UNHCR) کی طرف سے ماضی میں پاکستان میں آباد افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور جنگ سے متاثرہ اس ملک میں بسائے جانے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

یو این ایچ سی آر اس وقت ایسے افغان مہاجرین کو افغانستان بھیجنے کے انتظامات میں مصروف ہے جو رضاکارانہ طور پر اپنے ملک جانا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس ادارے کے پاس قریب 14 لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں۔ ان کی زیادہ تر تعداد اُس وقت سے پاکستان میں پناہ حاصل کیے ہوئے جب سابقہ سوویت یونین نے 1979ء میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔

ڈی پی اے کے مطابق جون تک بڑھائی گئی ڈیڈ لائن کے بعد تمام تر افغان مہاجرین کو زبردستی ان کے وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی کئی مرتبہ تمام افغان مہاجرین کو واپس ان کے وطن بھیجنے کا اعلان کرتا رہا ہے تاہم اب تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔