.

پاکستان حق خود ارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ ہے: وزیراعظم

ایم ایم اے، پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کے خود ارادیت کے حق کی منصفانہ جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے۔

وہ بدھ کے روز مظفر آباد میں آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اور آزاد جموں و کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی قابض فورسز نے گزشتہ سات عشروں سے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف دہشت گردی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاہم وہ ان کی آواز دبانے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے میں مضمر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کشمیر کے بارے میں ایک خصوصی نمائندہ تعینات کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جمعہ کے روز کشمیر کے ساتھ یوم اظہار یکجہتی منائے گا۔

وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ کشمیری عوام اپنی منصفانہ جدوجہد میں کامیاب ہوں گے انہوں نے کہاکہ بھارت کو ایک دن عالمی قوانین کے سامنے جھکنا ہو گا۔

درایں اثنا متحدہ مجلس عمل کے صدر وکشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کے حالیہ واقعہ کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مظلوم کشمیریوں سے حکومت کی طرف سے صرف یکجہتی کا اعلان کافی نہیں ہے پوری قوم کو سڑکوں پر آ کر سخت احتجاج کرنا ہو گا۔

بدھ کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا اور اقوام متحدہ کے ایجنڈے سے انحراف کرتے ہوئے اس کے حلف پیش کئے جا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمانی کشمیر کمیٹی جس بنیاد پر قائم کی گئی وہ مسئلہ کشمیر پر قومی موقف کو برقرار رکھنا اور اس میں تسلسل نہ ٹوٹنے دینا ہے آج تک کشمیر کمیٹی قومی موقف کو اجاگر کرنے میں سرگرم رہی اور مسئلہ کشمیر پر اصولی موقف کو تحلیل نہیں ہونے دیا۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے آج تک طے نہیں کر سکے یہ مسئلہ کشمیر کا فوجی حل ہوگا یا سیاسی حل ہم بھارت سے بھی یہی کہنا چاہتے ہیں کہ تنازع کشمیر کا سیاسی حل ممکن ہے مگر ہمارے ہاں سیاستدانوں کے ہاتھ پائوں کیوں باندھ دیئے جاتے ہیں۔ تنقید صرف سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کیلئے رہ جاتی ہے۔