شیریں مزاری کا اسپیکر کو’’ یار‘‘ کہنے پرقومی اسمبلی میں قہقہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ماحول اس وقت دلچسپ ہو گیا جب رہنما پی ٹی آئی شیریں مزاری نے روانی میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو ’’یار‘‘کہہ دیا۔ جسے سن کر ایاز صادق سمیت ایوان میں موجود تمام لوگ قہقہے لگانے لگے۔ اجلاس کے دوران رہنما ایم کیوایم پاکستان شیخ صلاح الدین نے نشاندہی کی کہ شیریں مزاری نے اسپیکر کیلئے’’ یار‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اسے حذف کیاجائے۔ جس پر ایاز صادق نے کہا ’’یار‘‘کا لفظ مجھے کہہ دیا کافی ہے سب کے سامنے نہیں کہیے گا جس پر شیریں مزاری نے کہا، میں آپ کو یار سمجھتی ہی نہیں ہوں تو کیسے کہوں گی میں آپ کو مسٹر اسپیکر کہتی ہوں۔

اسپیکر ایاز صادق نے خوشگوار موڈ میں کہا آپ اسد عمر اور شفقت محمود سے اس کی گواہی لے سکتی ہیں جس پر شیریں مزاری نے کہا کہ اسد عمر اور شفقت محمود کیلئے ’’یار‘‘ کا لفظ استعمال کرسکتی ہوں، آپ کیلئے نہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا شیریں مزاری صاحبہ میں آپ کو بڑی بہن سمجھتا ہوں اور بے حد احترام کرتا ہوں، شیریں مزاری نے خود کو بڑی بہن کہنے پر اعتراض کیا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا میں نے آپ کی عمر چیک کی ہوئی ہے، اس لیے بڑی بہن کہا، اگرآپ کو اعتراض ہے تو چھوٹی بہن بن جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں