.

لاہور میں عدالت ِعظمیٰ کے جج اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پر دومرتبہ فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع رہائش گاہ پر نامعلوم مسلح افراد نے دو مرتبہ فائرنگ کی ہے۔نامعلوم حملہ آوروں نے ہفتے کی شب پونے گیارہ بجے کے قریب پہلی مرتبہ فائرنگ کی تھی اور اتوار کی صبح نو بج کر دس منٹ پر دوبارہ فائرنگ کی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے آج جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور انھوں نے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کو فائرنگ کے ان دونوں واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور وہ خود اس تمام صورت حال کی نگرانی کررہے ہیں۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے بھی اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور انھوں نے حملہ آوروں کی فور ی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔انھوں نے بھی پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس کو واقعے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فوری طور پر فائرنگ کے محرکات کا پتا چل سکا ہے اور نہ یہ معلوم ہو سکا ہے کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان کون ہیں ؟ واضح رہے کہ جسٹس اعجازالاحسن پاناما گیٹ کیس کی سماعت کرنے والی عدالت عظمیٰ کی پانچ رکنی بنچ میں شامل تھے۔اسی بنچ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔اسی فیصلے کی بنیاد پر عدالتِ عظمیٰ نے گذشتہ جمعہ کو جاری کردہ اپنے حکم میں میاں نواز شریف کو تاحیات سیاست کا نااہل قرار دے دیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کو پاناما گیٹ فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی پر مامور کیا گیا تھا ۔اس وقت وہ قومی احتساب بیورو ( نیب) اور احتساب عدالتوں میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف مقدمات کی سماعت کے عمل کی نگرانی کررہے ہیں۔

وہ متنازع الیکشن ایکٹ 2017ء کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دائر کردہ متفرق سترہ درخواستوں کی سماعت کرنے والی تین رکنی بنچ میں بھی شامل تھے۔اسی بنچ نے یہ قرار دیا تھا کہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ بھی نہیں ہوسکتا۔اس فیصلے کے تحت میاں نواز شریف کو مسلم لیگ نواز کی صدارت چھوڑنا پڑی تھی۔

پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے کہا ہے کہ ’’ یہ ایک انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے ۔ہم حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہے‘‘۔

سکیورٹی فورسز کی رپورٹس کے مطابق جسٹس اعجاز کی رہائش گاہ کے بیرونی دروازے کے نزدیک سے 9 ایم ایم پستول کی گولی کا خول ملا ہے اور ایک خول گھر کے باورچی خانے کی کھڑکی کے نزدیک سے ملا ہے۔ فورینزک ماہرین دو مرتبہ ان کے گھر آئے ہیں اور انھوں نے وہاں سے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فائرنگ کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور ملزموں کی فوری گرفتار ی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری ، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ،سینیٹ کے چئیرمین صادق سنجرانی اور دوسرے سیاسی رہ نما ؤں نے بھی جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اور واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔