.

عمران خان ’ہارس ٹریڈنگ‘ میں ملوث پارٹی ارکان کے نام سامنے لے آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے والے 20 اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئر مین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ سینیٹ ملک کا اہم ترین ادارہ ہے اور ملک میں 30، 40 سال سے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بک رہا ہےلیکن ووٹ خریدنے پر کوئی ایکشن نہیں لیتاتھا تاہم ہم نے سینیٹ میں ووٹ بیچنے والے اپنے ارکان کے خلاف ایکشن کا فیصلہ کیا تھا اور پارٹی اراکین پر الزامات کی پوری تحقیقات کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے جو کہا اس پر افسوس ہوا، کیا انہیں نہیں پتہ تھا کہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ خریدا جاتاہے انہوں نے ایکشن کیوں نہیں لیا؟۔

چیئر مین تحریک انصاف نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ہمارے 60 اراکین ہیں اور پارٹی تحقیقات کے مطابق ہمارے 20 اراکین نے اپنے ووٹ بیچے اور وہ وہ لوگ سینیٹ الیکشن میں کامیاب ہوئے جن کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز کو 4، 4 کروڑ روپے کی پیش کش ہوئی،انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں نہ بکنے والے اراکین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں تاہم ووٹ بیچنے والے اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا اور انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا ایک موقع فراہم کیا جائے گا تاہم شوکاز کا جواب نہ دینے کی صورت میں معاملہ نیب کو بھجوایا جائے گا۔

عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے والے 20 اراکین کے ناموں کا بھی اعلان کیا جن میں نرگس علی، دینا ناز، فوزیہ بی بی، نسیم حیات، ناگینہ خان شامل ہیں جب کہ مرد اراکین میں سردار ادریس، عبید، زاہد درانی، عبدالحق، قربان خان، امجد آفریدی، وجیہہ الزمان، بابر سلیم، عارف یوسف، جاوید نسیم، یاسین خلیل، فیصل زمان اور سمیع اللہ زیب ٹکٹ بیچنے والوں میں شامل ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے لوگوں کے خلاف تحقیقات کیں، ہمیں یہ بھی پتا ہے کہ باقی جماعتوں کے لوگ بھی بکے ہیں لیکن انتظار کر رہے ہیں کہ باقی جماعتیں بھی ہماری طرح کارروائی کریں، اگر دیگر جماعتوں نے کارروائی نہ کی تو ہم ان لوگوں کے نام بھی جاری کریں گے۔

عمران خان نے نوازشریف کو ملک سے باہر بھیجنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے بیرون ملک جانے سے ان کے کیس میں فیصلہ نہیں آسکے گا، جب کہ جواب دینے کے بجائے نوازشریف اداروں پرحملہ کرر ہے ہیں، یہ کرپشن کی یونین ہے جو جمہوریت کے پیچھے چھپ رہے ہیں اور حکومت منی لانڈرنگ میں ملوث نوازشریف کو بچانے کی کوشش کررہی ہے کیوں کہ ان کے ساتھ موجود لوگوں کو ڈر ہے کہ کل ان کی باری آئے گی۔