مسئلہ فلسطین پر سعودی عرب کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی: سعودی سفیر

شاہ سلمان اسلامی دنیا اور بالخصوص فلسطین کے لیے شاندار خدمات پر 2017ء کی پسندیدہ شخصیت قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسلام آباد میں متعیّن سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین پر سعودی عرب کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔پاکستان سعودی عرب کی دوستی لازوال ہے ، پاکستانیوں کے دل میں حرمین الشریفین کی محبت اور احترام کی مثال نہیں ملتی ، مملکت سعودی عرب وحدت کا مرکز ہے۔

انھوں نے یہ بات لاہور میں پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام سوموار کو منعقدہ تیسری عالمی پیغام اسلام کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مسلمانوں کی وحدت چاہتے ہیں۔

اس کانفرنس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق انتہا پسندی ، دہشت گردی ، فرقہ وار تشدد اور اسلامی و عرب ممالک میں بیرونی مداخلت کے خلاف عالمی اسلامی فکری اتحادکے قیام اور ارض الحرمین الشریفین اور القدس کے تحفظ اور سلامتی کیلئے عالمگیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کانفرنس میں مختلف اسلامی ممالک کے مندوبین ، غیر ملکی سفراء اور ملک بھر سے علماء و مشائخ نے شرکت کی۔کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی جبکہ کانفرنس کے مہمانان خصوصی سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری الشیخ طلال العقیل ، الشیخ ڈاکٹر راشد الزاہرانی ، سعودی سفیر ، نواف سعید المالکی ، فلسطین کے قائم مقام قاضی القضاۃ ڈاکٹر محمود ، اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش ، ڈاکٹر عبدہ حسین ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایازتھے ۔

کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ انتہا پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وار تشدد کی وجہ سے امت مسلمہ تباہی کی طرف جا رہی ہے ، عراق ، شام ، لیبیا اور یمن کی تباہی کے بعد اب اسلام دشمن قوتوں کا ہدف مستحکم اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے مقدسات ہیں ، سعودی عرب اور پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب پر روزانہ حوثی باغیوں کی طرف سے ایرانی ساختہ میزائل حملے امت مسلمہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں، امت مسلمہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام سے غافل نہیں رہ سکتی۔ایران کو عرب ممالک میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور اسلامی اور عرب ممالک میں انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی مدد بند ہونی چاہیے ۔

اعلامیے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تل ابیب سے القدس میں سفارت خانہ منتقل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور امریکا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس خطرناک کھیل سے باز رہے۔ فلسطین کے مکمل اور خود مختار ریاست کے قیام کے بغیر تنازع کا کوئی حل قبول نہیں کیا جا سکتا۔عالم اسلام فلسطین اور اہل فلسطین کے ساتھ ہیں اور عرب لیگ کی 29 ویں سربراہی کانفرنس کے فیصلوں کی مکمل تائید کی جاتی ہے ۔

کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فوری طور پر سعودی عرب پر حملے کرنے والے حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کریں۔حوثی باغیوں کے خلاف عالمی دنیا کو متحد ہونا ہو گا۔

اعلامیے میں پاکستان کی فوج اور حکومت کی طرف سے سعودی عرب میں مشاورت اور تربیت کے لیے فوج بھیجنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہونے کے ناتے پاکستان کے عوام اور فوج پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کے مقدسات کے دفاع اور استحکام کے لیے سعودی عرب کی حکومت کی مشاورت اور معاونت جاری رکھے ۔

اعلامیے میں علماء کی طرف سے پیغام پاکستان کو درست سمت میں قدم قرار دیتے ہوئے قومی بیانیے کی صورت میں بعض ترامیم کے ساتھ اسے نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیااور کہا گیا کہ انتہاء پسند نظریات کی جماعتوں کے مقابلے کے لیے مسلم علماء اور دانشوروں کو میدان میں آنا چاہیے۔

اس تیسری عالمی پیغام اسلام کانفرنس کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کو اسلامی دنیا اور بالخصوص مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کوششوں اور فلسطینیوں کی امداد کے ضمن میں شاندار خدمات کے اعتراف میں 2017ء کی عالم اسلام کی پسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا۔

کانفرنس میں مقررین نے شاہ سلمان کے مسلم امہ کے اتحاد اور یک جہتی کے لیے کردار اور کوششوں کو سراہا۔پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے سعودی سفیر نواف سعید المالکی کو شاہ سلمان کے لیے اسلامی دنیا کی پسندیدہ شخصیت کا ایوارڈ پیش کیا۔

اس موقع پر سعودی سفیر نے شرکاء کا خادم الحرمین الشریفین کو اس اعزاز سے نوازنے پر شکریہ ادا کیا۔کانفرنس میں پاک فوج کو اس کی عظیم خدمات پر اسلامی ممالک کے مندوبین کی طرف سے ایک اعزازی شیلڈ بھی دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں