پی ٹی ایم نے حقائق اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے لاہور میں جلسے سے خطاب میں ماورائے عدالت قتل اور گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے 'ٹُرتھ اینڈ ری کنسیلئیشن کمیشن (یعنی حقائق اور مفاہمتی کمیشن) کے قیام کا مطالبہ کیا اور ساتھ ساتھ کراچی میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔

منظور پشتین کا کہنا تھا کہ انہوں نے لاہور میں جلسہ اس لیے کیا ہے تاکہ وہ لاہور کے باسیوں کو پشتون لوگوں کی درد بھری کہانیاں سنا سکیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسا ہی ایک جلسہ بارہ مئی کو کراچی میں بھی کیا جائے گا۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی طرف سے اتوار کے دن لاہور میں منعقد کی گئی ایک ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ موچی گیٹ پر منعقدہ اس ریلی سے خطاب میں منظور پشین کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ لاہور کے شہریوں کو وہ باتیں سنا سکیں، جو عوام اور میڈیا سے چھپائی گئی ہیں۔

اس موقع پر منظور پشتین نے قبائلی علاقہ جات میں مارے گئے شہریوں کی کہانیاں سنائیں تاہم انہوں نے کسی کا نام نہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے اور اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہوئے ہیں تو ان کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی تحریک کا اگلا اجتماع سوات میں ہو گا جب کہ بارہ مئی کو وہ کراچی میں جلسہ کریں گے۔

ریلی سے خطاب میں پی ٹی ایم کے ایک اور رہنما علی وزیر نے کہا کہ وہ قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق موچی گیٹ میں ہونے والی اس ریلی میں مشہور انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ جالب بھی شریک ہوئیں۔

اگرچہ اس پروگرام میں صحافی موجود ہیں تاہم اس جلسہ کی مقامی سطح پر کوریج نہیں کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے اس جلسے کی اجازت نہیں دی تھی تاہم اس کے باوجود یہ اجتماع منعقد کیا گیا۔

پشتون تحفظ تحریک نے پاکستان بھر میں ماورائے عدالت قتل، لاپتہ افراد کی بازیابی اور پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے پشتون افراد کی مبینہ تذلیل کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ یوں تو اس تحریک کا مرکز پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخوا ہے لیکن پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی جہاں جہاں پشتون آبادی موجود ہے، اسے بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں