ویژن 2030: سعودی عرب میں پہلی پاکستانی خاتون سفارت کار کی تعیناتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے وژن 2030 میں تحت طے کردہ اہداف کی روشنی میں ایک طرف مملکت کے اندر دور رس نتائج کی حامل تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب خارجی سطح پر بھی اس کے اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال وہاں تاریخ میں پہلی پاکستانی سفارت کار کی تعیناتی ہے۔

فوزیہ فیاض واشنگٹن اور دہلی کے بعد اب جدہ میں موجود پاکستانی قونصلیٹ میں گذشتہ ایک ماہ سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے۔ انھوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کے بعد 2006 میں سول سروسز میں شمولیت اختیار کی۔ فوزیہ فیاض پہلی بار سعودی عرب جیسی مقدس سرزمین پر بطور خاتون سفارت کار اپنی تقرری کو اعزاز سمجھتی ہیں۔

فوزیہ اپنی سرکاری تعیناتی سے قبل تین مرتبہ سعودی عرب کا نجی دورہ کر چکی ہیں۔ وہاں آنے والی حالیہ تبدیلیوں خاص طور پر خواتین کو حقوق اور خود مختاری دینے کے حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: 'یہاں ہر سطح پر کافی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ وہاں کام کرنے والوں میں بہت زیادہ خواتین بھی آپ کو اب نظر آ رہی ہیں۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سماجی تبدیلی ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں ہے جس پر ابھی کچھ کہنا یا ماضی سے اس کا تقابل کرنا قبل از وقت ہو گا اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہی اس پر رائے دی جا سکتی ہے۔

’کچھ عرصے بعد میں بہتر پوزیشن میں ہوں گی کہ اس پر رائے دے سکوں۔ سعودی عرب میں جب جون میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملے گی میرا خیال ہے اس کے بعد آپ کو سعودی معاشرے کا ایک الگ چہرہ نظر آئے گا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے علاوہ اردن اور چند اور ممالک نے بھی اب سعودی عرب میں خاتون سفارت کاروں کو تعینات کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں