.

پاک آرمی چیف نے 11 دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گیارہ دہشت گردوں کو سنائی گئی سزائے موت اور تین کو قید کی سزاؤں کی توثیق کردی ہے۔

ان مجرموں کے خلاف فوج کی خصوصی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے ہیں ۔انھیں عدالتوں نے فوج ،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مالا کنڈ یونیورسٹی سمیت تعلیمی اداروں پر حملوں ، خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے رکن عمران خان مہمند اور دوسرے شہریوں کے قتل کے جرم میں قصور وار قرار دیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ’’ یہ تمام مجرم مجموعی طور پر 60 افراد کی ہلاکتوں میں ملوث تھے۔ ان میں 36 شہری اور 24 مسلح افواج ، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس حکام شامل ہیں۔ ان کے حملوں میں 142 افراد زخمی ہوئے تھے‘‘۔

ان تمام 14 مجرموں نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اقرار کیا تھا۔یہ تمام مجرمان کالعدم تنظیموں کے کارکنان تھے۔انھیں ان کے سنگین جرائم کی پاداش میں سز ائے موت اور قید کا حکم دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق تین مجرموں برہان الدین ولد عمر دراز ، شہیر خان ولد رحمان الدین اور گل فراز خان ولد وصلی خا ن مردان میں ایک شہری کی نماز جنازہ پر دہشت گردی کے حملے میں ملوث تھے ۔اس حملے میں ایم پی اے خیبر پختونوا اسمبلی عمران مہمند سمیت تیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور کم سے کم ایک سو زخمی ہوگئے تھے۔

سزائے موت پانے والا ایک مجرم محمد زیب ولد محمد نواب نے پاک آرمی کے نائب صوبے دار محمد حنیف ، حوالدار محمد نصیر اور حوالدار محمد قیوم سمیت پانچ اہلکاروں کو حملہ کر کے شہید کیا تھا ۔اس کے قبضے سے آتشیں ہتھیار اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

سلیم ولد عبدالمتین کو فوج اور شہریوں پر حملوں اور تین افراد کی شہادت کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی تھی۔عزت خان ولد عجیب البہار مالا کنڈ یونیورسٹی میں ایک حملے میں ملوث تھا۔اس حملے میں ایک شہری جاں بحق اور چار پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ زخمی ہوگئے تھے۔ وہ تین اور تعلیمی اداروں پر حملوں میں بھی ملوث تھا۔اس کے قبضے سے آتشیں ہتھیار اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

محمد عمران ولد حضرت عمر مسلح افواج کے ایک دستے پر حملوں میں ملوث تھا ۔اس کے نتیجے میں نائیک غلام حسن ، نائیک افتخار علی اور ایک فوجی شہید اور چار فوجی زخمی ہوگئے تھے۔اس کو عدالت نے قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ ایک اور مجرم یوسف خان ولد احمد جان مسلح افواج پر حملو ں میں ملوث تھا ۔اس کے حملوں میں دو فوجی شہید اور چار زخمی ہوگئے تھے۔

ایک اور مجرم نادر خان ولد عامر رحمان مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھا۔اس کے حملے میں حوالدار محمد اسماعیل اور ایک فوجی زخمی ہوگیا تھا۔اس کے قبضے سے آتشین ہتھیار اور دھماکا خیز مواد برآمد ہو اتھا ۔عدالت نے اس کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔

محمد عارف اللہ خان ولد زرین گل کو مسلح افواج پر حملوں اور دو فوجیوں کی شہادت کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ بخت محمد خان ولد غواص خان ایک شہری کے قتل اور مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں دوفوجی شہید ہوگئے تھے۔