اسلام آباد میں موٹر سائیکل سوار کی ہلاکت کا ذمے دار امریکی سفارت کار پاکستان سے گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں متعیّن دفاعی اور فضائی اتاشی کرنل جوزف عمانوایل ہال کو ملک سے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق انھیں سوموار کو امریکا کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان سے افغانستان لے جایا گیا ہے۔

کرنل جوزف نے 7 اپریل کو اسلام آباد کی شاہراہ مارگلہ پر واقع دامن کوہ چوک میں دو موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو اپنی گاڑی سے ٹکر مار دی تھی جس سے ایک نوجوان عتیق بیگ موقع پر جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوگیا تھا۔پولیس رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ کرنل جوزف کی غیر ذمے دارانہ ڈرائیونگ اور سرخ اشارے پر نہ رکنے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے دو روز پہلے امریکی دفاعی اتاشی کی پاکستان سے فرار کی کوشش ناکام بنا دی تھی اور انھیں افغانستان سے لینے کے لیے آنے والا امریکا کا سی 130 طیارہ راول پنڈی کے نور خاں ائیربیس سے خالی لوٹ گیا تھا۔ ایف آئی اے نے ان کا پاسپورٹ بھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

پاکستانی حکومت نے مبینّہ طور پر امریکی حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد کرنل جوز ف ہال کو ملک سے جانے کی اجازت دی ہے کہ ان کے خلاف امریکی قوانین کے مطابق امریکا میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ یاد رہے کہ قبل ازیں پاکستان کی سابقہ حکومت نے دو شہریوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو بھی امریکا کی جانب سے ایسی یقین دہانی پر ملک سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔

پہلے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کرنل جوزف کو مکمل سفارتی استثنا حاصل نہیں تھا لیکن اب اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں 1972ء کے ویانا کنونشن کے تحت مکمل سفارتی استثنا حاصل ہے اور ان کے خلاف کوئی فوجداری ، انتظامی یا سول کارروائی نہیں کی جا سکتی ۔

کرنل جوزف کی گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی موت کے واقعے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں ابتدائی اطلاعی رپورٹ ( ایف آئی اے) درج کی گئی تھی مگر انھوں نے یہ کہہ کر پولیس کو گرفتاری دینے سے انکار کردیا تھا کہ انھیں سفارتی اسثنا حاصل ہے لیکن گذشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا تھا کہ امریکی دفاعی اتاشی کو مکمل سفارتی اسثنا حاصل نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائی کور ٹ میں مقتول نوجوان عتیق بیگ کے والد نے کرنل جوز ف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں شامل کرنے کے لیے ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔اس پر عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق معاملے کا دو ہفتے میں فیصلہ کرے لیکن اس فیصلے سے قبل ہی حکومت نے انھیں ملک سے جانے کی اجازت دے دی ہے۔

عدالتِ عالیہ اسلام آباد کے جج نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کے تحت میزبان ملک میں سفارت کاروں کو گرفتاری اور حراست میں رکھنے کا استثنا حاصل ہوتا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی محکمہ خارجہ کو یہ استثنا ختم کرنے کے لیے ایک خط بھی لکھا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی عہدہ دار ایلس ویلز نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور کرنل جوزف کے معاملے پر پاکستانی حکام سے بات چیت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں