.

پاکستان کے راستے ’بے بی ٹیلکم پاؤڈر‘ کی اسمگلنگ داعش کا اہم ذریعہ آمدن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے اپنی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروپ ’داعش‘ اپنی سرگرمیوں کے لیے فنڈز اکھٹا کرنے کی پاکستان کے راستے غیر قانونی طور پر بچوں کے استعمال کا ’بے بی ٹیلکم پاؤڈر‘ اسمگل کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی نگرانی سے متعلق ایک گروپ کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’داعش‘ کے جنگجو افغانستان میں غیر قانونی کان کنی سے ٹیلکم پاؤڈر حاصل کر رہے جسے پاکستان کے راستے بیرونی ملکوں میں سمگل کر دیا جاتا ہے۔

گروپ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیلکم پاؤڈر کی آخری منزل امریکا یا یورپ ہوتی ہے، جسے بے بی پاؤڈر، صابن، کاسمیٹک مصنوعات اور کئی صنعتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

گلوبل وٹنس ایڈوکیسی گروپ کی رپورٹ میں افغانستان کی کان کنی کی وزارت کے حوالے سے انكشاف کیا گیا ہے کہ اس سال مارچ تک تقریباً 5 لاکھ ٹن ٹیلکم برآمد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کی کانوں سے نکالا جانے والا تقریباً سارا ٹیلکم پاکستان بھیج دیا گیا، جہاں سے اس کا زیادہ تر حصہ دوبارہ برآمد کر دیا گیا۔

امریکا ٹیلکم کی اپنی ضروريات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ پاکستان سے منگواتا ہے، جب کہ باقی ماندہ حصہ پاکستان سے یورپ چلا جاتا ہے۔ پاکستان کی سرحد سے ملحق افغان صوبہ ننگرہار میں بڑے پیمانے پر ٹیلکم، کرومائیٹ اور سنگ مرمر کے ذخائر موجود ہیں۔ ننگرہار اسمگلنگ کے اہم راستوں پر واقع ہے۔ ان راستوں سے بڑے پیمانے پر منشیات بھی سمگل کی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں داعش کے ایک عسکری کمانڈر کا حوالہ دیا گیا ہے جس کا کہنا ہے کہ حریف گروپ سے کانوں کا کنٹرول چھیننا ان کی اولین ترجيح ہے۔ اس وقت معدنيات کی زیادہ تر کانیں طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ داعش اور طالبان کے درمیان لڑائیوں کی عمومی وجہ کانوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش ہوتی ہے۔

گلوبل وٹنس گروپ کا کہنا ہے کہ یہ کانیں مافیا کے کنٹرول میں ہیں جنہیں وہ اپنی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کی خاطر استعمال کر رہے ہیں۔

غیر قانونی کان کنی اور معدنيات کی افغانستان سے اسمگلنگ کی مالیت کے اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں، لیکن اندازہ ہے کہ اس سے لاکھوں ڈالر حاصل کیے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ رقم کچھ زیادہ محسوس نہیں ہوتی، لیکن اگر افغانستان میں مقیم امریکی فوج کے ان تخمینوں پر نظر ڈالی جائے جن میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں داعش کے عسکریت پسندوں کی تعداد 750 سے 2000 کے لگ بھگ ہے، تو لاکھوں ڈالر اس محدود تعداد کے پیش نظر ان کے لیے خطیر رقم ہے۔

افغانستان کی کان کنی کی وزارت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس مسئلے کے لیے ایک خصوصي کمیٹی قائم کی جا چکی ہے جو اس کے حل کے لیے سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جینس سروسز سے رابطے میں ہے۔