.

خیبر پختونخوا اسمبلی میں فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا بل دوتہائی اکثریت سے منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے خیبر پختونخوا ( کے پی) کی اسمبلی نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں ( فاٹا) کو صوبے میں ضم کرنے کے بل کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد ان علاقوں کی صوبے میں انضمام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں خیبر پختونخوا کی اسمبلی نے آئینی تقاضے کے عین مطابق دو تہائی اکثریت سے اتوار کو اپنے خصوصی اجلاس میں اس بل کی منظوری دی ہے۔صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد نے اسمبلی میں بل پیش کیا ۔92 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ سات نے اس کی مخالفت کی ۔

پارلیمان کے بعد صوبائی اسمبلی سے اس بل کی منظوری اور صدر ممنون حسین کی توثیق کے بعد سات ایجنسیاں اور چھے قبائلی علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن جائیں گے ۔قبائلی عوام کو بھی آئینی ترامیم کے ذریعے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کا حق حاصل ہوجائے گا اور ان علاقوں میں بھی ملک کے دوسرے علاقوں میں نافذالعمل قوانین کا اطلاق ہوگا اور انگریز دور کے کالے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کا خاتمہ ہوجائے گا۔

صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علماء اسلام نے فاٹا کے کے پی میں انضمام کے خلاف پشاور میں احتجاج جاری رکھا ہے اور اس کے کارکنان نے صوبائی اسمبلی کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے اور ٹائر جلا کر راستے بند کر دیے تھے ، جے یو آئی کے ارکان نے اسمبلی میں بھی اس بل کی مخالفت کی ہے۔

جے یو آئی اور پشتونخوا میپ فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں اور ان کا یہ موقف ہے کہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ ریفرینڈم کے ذریعے ہونا چاہیے اور قبائلی عوام کو صوبے کا حصہ بنانے سے پہلے ان کی رائے پوچھی جائے کہ آیا وہ کے پی کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا الگ سے اپنا صوبہ چاہتے ہیں۔

اسمبلی میں صوبے کی حکمراں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے ناراض ارکان نے بھی بل کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے نعرے بازی کی۔صوبائی اسمبلی نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری ہونے سے صرف ایک روز قبل اس بل کی منظوری دی ہے ۔

اسمبلی کا اجلاس آج اتوار کو چھٹی کے باوجود اس بل پر رائے شماری کے لیے خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا۔اس کے خلاف جے یو آئی اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان صبح ہی سے احتجاج کررہے تھے۔انھوں نے اسمبلی کی عمارت تک جانے والے راستے بند کردیے تھے، جنھیں کھلوانے کے لیے انتظامیہ نے مظاہرین سے مذاکرات کیے لیکن بات چیت کی ناکامی کے بعد پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ارکان اسمبلی کو عمارت تک پہنچانے کا راستہ بنایا۔

پشاور میں  صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر جے یو آئی  اور فاٹا  سے تعلق  رکھنے والے انضمام  بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک ہیں۔
پشاور میں صوبائی اسمبلی کی عمارت کے باہر جے یو آئی اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے انضمام بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک ہیں۔