.

پاکستان کے سابق چیف جسٹس ناصر الملک نگران وزیراعظم ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی حکومت اور حزب اختلاف نے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ریٹائرڈ جسٹس ناصر الملک کو نگران وزیراعظم نامزد کردیا ہے۔

سوموار کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں نگران وزیراعظم کے نام کا اعلان کیا ہے۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر اعظم کے ترجمان سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک بھی موجود تھے۔ ریٹائرڈجسٹس ناصر الملک کا نام حکومت کی طرف سے تجویز کیا گیا تھا ۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نیوز کانفرنس میں پہلے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے جمہوری سفر میں ایک اہم دن ہے ۔ چھے ہفتے سے مشاورت کا عمل جاری تھا۔ ہماری کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ خورشید شاہ نے اپنی جماعت اور اپوزیشن سے مشاورت کی ۔ہم نے بھی مشاورت کی اور کئی روز یہ عمل چلتا رہا۔ اس میں فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا لیکن قائد ِحزبِ اختلاف ،ان کی جماعت اور حزب ِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کا ممنون ہوں کہ نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں، نگران وزیراعظم کے طور پر ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا ہے جن کا ماضی واضح ہے اور ان کا بطور نگران وزیر اعظم کردار بھی ملک اور جمہوری عمل کے حق میں ہو گا۔ انھوں نے اسپیکر سردار ایاز صادق کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنھوں نے آئینی طریقہ سے سہولت فراہم کی اور حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف نے یہ نہیں کہا کہ جج کا نام نگران وزیر اعظم کے لیے نہیں دیا جائے گا ۔ہر نام پر مشاورت ہو رہی تھی اور آخر میں اتفاق رائے سے ایک نام پر فیصلہ ہو گیا ۔ نام ایسا ہے جس پر پاکستان کا کوئی شخص انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔

ان کے بعد سید خورشید شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کی اور کہا کہ نگران وزیراعظم کے لیے جو بھی نام زیر غور آئے، وہ بڑے قابل احترام اور قابل عزت تھے۔ان کی ساکھ کے حوالے سے کوئی شک اور شبہ نہیں، سب قابل احترام ہیں ۔ میں وزیر اعظم اور اسپیکر کا شکر گزار ہوں کہ ہم سب نے مل کر صبر اور تحمل کے ساتھ جذبات سے ہٹ کر اپنا فیصلہ کیا ہے ۔ میں نگران وزیر اعظم کے لیے جسٹس ( ر ) ناصر الملک کے نام کا اعلان کرتا ہوں۔ ناصر الملک چیف جسٹس آف پاکستان رہے ہیں اوران کا ایک تاریخی کردار رہا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ وہ پاکستان میں 25 جولائی 2018 ء کو شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے میں کامیاب ہوں گے۔اللہ انھیں اس کام کے لیے ہمت اور حوصلہ دے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سیاسی کارکن کے طور پر سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کے لیے بہت اہم انتخابات ہوں گے کیونکہ پاکستان بڑے مسائل سے گزر رہا ہے ۔ اس ملک میں انتخابات میں دھاندلیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔اس تناظر میں آنے والی نگران حکومت پر بہت بھاری ذمہ داری عاید ہو رہی ہے ۔میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سوچ اورہمت دے کہ پاکستان کی یہ پارلیمنٹ ہمیشہ قائم رہے ۔

انھوں نے اسپیکر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پل کا کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تاریخی دن ہے کیونکہ میڈیا میں چہ مگوئیاں اور تبصرے ہو رہے تھے اور یہ کہا جارہا تھا کہ سیاستدان خود فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ پارلیمنٹ خود اپنا فیصلہ نہیں کرتی ۔ فیصلے باہر ہوتے ہیں ۔ یہ ہم سب کے لیے بڑا چیلنج تھا ۔

نیوز کانفرنس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق رائے سے جمہوریت اور پارلیمان کی فتح ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر نے اپنی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے ۔ یہ ایک تاریخی اور جمہوریت کے حق میں فیصلہ ہے۔