.

پرویز مشرف کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 1 چترال سے کاغذاتِ نامزدگی جمع

چیف جسٹس پاکستان کا سابق فوجی صدر کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ان بلاک کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے آیندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا کے شمال مغربی ضلع چترال سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سے کاغذات ِ نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔

سابق صدر کی جانب سے ان کے وکیل اور جماعت آل (اے پی ایم ایل ) پاکستا ن مسلم لیگ کے لیڈروں نے چترال میں سوموار کو متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔اے پی ایم ایل کے ضلعی صدر سلطان وزیر نے اس موقع پر کہا کہ پرویز مشرف بہت جلد وطن واپس آئیں گے اور چترال میں ایک ریلی سے خطاب کریں گے۔

پرویز مشرف نے 2013ء میں بھی چترال سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے مگر انھیں نا اہل قرار دے دیا گیا تھا ۔اس کے بعد ان کی جماعت نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا ا علان کردیا تھا ۔اس کے باوجود ان کی جماعت کا ایک امیدوار قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 32 اور ایک امیدوار صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 90 سے جیتنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

قبل ازیں آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس ثاقب نثار نے پرویز مشرف کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو بھی ان بلاک کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ملک واپس آ سکیں ۔ وہ 2016ء سے دبئی میں مقیم ہیں ۔وہ اپنے خلاف غدار ی کے مقدمے سے بچنے کے لیے علاج کی غرض سے دبئی چلے گئے تھے اور اس کے بعد وطن نہیں لوٹے ہیں۔

چیف جسٹس نے یہ حکم نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی ( نادار) کے چئیرمین عثمان مبین کی ایک فل بینچ کے روبرو پیشی کے موقع پر دیا ہے۔ وہ ایک اور کیس کے سلسلے میں عدالت میں حاضر ہوئے تھے۔ان سے جب چیف جسٹس نے پوچھا کہ وہ کیوں آئے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ عدالت اگرچہ سابق صدر پرویز مشرف کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی اجازت دے چکی ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکیں گے کیونکہ ان کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک ہیں۔

نادرا اور نظامتِ عامہ امیگریشن اور پاسپورٹس نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر سابق فوجی صدر کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا تھا ۔وزارت داخلہ نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے دونوں محکموں کو قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کی ہدایت کی تھی۔

عثمان مبین کی زبانی درخواست پر چیف جسٹس نے پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ان بلاک کرنے کا حکم دیا اور اپنے ایک سابقہ حکم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی حکمراں کو ہوائی اڈے سے سپریم کورٹ میں پیش ہونے تک راستے میں کسی جگہ گرفتار نہ کیا جائے ۔انھوں نے یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف زیر التوا غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے دو روز میں ایک خصوصی ٹرائبیونل تشکیل دیا جائے گا۔

یادرہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپریل 2013ء میں پرویز مشرف کو عدالتِ عظمیٰ کے 31 جولائی 2009ء کے فیصلے کی روشنی میں عمر بھر کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے پرویز مشرف کی 3 نومبر 2007ء کو ملک میں نافذ کردہ ایمرجنسی اور آئین کی معطلی کے اقدام کو غیر قانونی قراردیا تھا۔ان کی نا اہلی کے بعد کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 سے انتخاب لڑنے کے لیے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی بھی متعلقہ ریٹرننگ افسر نے مسترد کردیے تھے ۔