.

عدالتِ عظمیٰ کی سابق فوجی صدر مشرف کو جمعرات 2 بجے تک پیش ہونے کی مہلت

ریٹائرڈ جنرل کمانڈو ہوتے ہوئے عدالت میں پیش ہونے سے کیوں ڈر رہے ہیں: چیف جسٹس کے ریمارکس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کو کل جمعرات دو بجے تک ذاتی طور پر پیش ہونے کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اگر عدالت میں حاضر نہ ہوتے تو پھر ان کی غیر حاضری میں ان کے عام انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق نااہلیت کیس کا فیصلہ کردیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ ان کی نااہلیت کے خلاف دائر کردہ اپیل کی سماعت کررہا ہے۔عدالت ِعظمیٰ نے گذشتہ ہفتے انھیں ملک میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی اجازت دے دی تھی اور انھیں ہدایت کی تھی کہ وہ 13 جون کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہوں لیکن وہ آج عدالت میں حاضر ہونے میں ناکام رہے ہیں۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق فیصلہ ان کی عدالت میں حاضری سے مشروط ہے۔چیف جسٹس نے آج کیس کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیے ہیں کہ ’’عدالتِ عظمیٰ مشرف کی شرائط کی پابند نہیں ہے۔ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پرویز مشرف کو وطن واپسی پر سکیورٹی مہیا کی جائے گی لیکن ہم اس ضمن میں کوئی تحریری ضمانت دینے کے پابند نہیں ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اگر سابق صدر واپس نہیں آتے تو ان کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عدالت میں سابق صدر کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کے 2013ء میں عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کو بحال کر دیا جائے کیونکہ ان کے خلاف پشاور ہائی کورٹ نے ان کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا تھا۔

وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سابق فوجی حکمراں اپنے خلاف غداری کے مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ انھیں تحفظ کی مکمل ضمانت دی جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ عدالتِ عظمیٰ سے کس قسم کی ضمانت چاہتے ہیں؟ کیا ان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ نہ چلایا جائے؟انھوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف ایک کمانڈو ہیں تو انھیں عدالت میں پیش ہونا چاہیے اور ایک سیاست دان کی طرح مسلسل یہ بہانے بازی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ وطن واپس آ جائیں گے۔

انھوں نے اس بات پر حیرت کا ا ظہار کیا کہ پرویز مشرف کمانڈو ہوتے ہوئے اتنے خوف زدہ کیوں ہیں؟ مگر انھیں اس وقت کوئی خوف لاحق نہیں ہوا تھا جب انھوں نے اکتوبر 1999ء میں ملک کی باگ ڈور سنبھال لی تھی اور آئین معطل کردیا تھا۔انھیں آئین ، قانون ، قوم اور عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے۔

دریں اثناء چیف جسٹس پاکستان نے وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد یاور علی کی سربراہی میں دو رکنی خصوصی عدالت قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نذر اکبر اس کے رکن ہوں گے۔

یادرہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپریل 2013ء میں پرویز مشرف کو عدالتِ عظمیٰ کے 31 جولائی 2009ء کے فیصلے کی روشنی میں عمر بھر کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے پرویز مشرف کی 3 نومبر 2007ء کو ملک میں نافذ کردہ ایمرجنسی اور آئین کی معطلی کو غیر قانونی قراردیا تھا۔ان کی نا اہلی کے بعد کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 سے انتخاب لڑنے کے لیے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی بھی متعلقہ ریٹرننگ افسر نے مسترد کردیے تھے ۔