.

اردو ادب کے ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی چل بسے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردو ادب کے معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی مختصر علالت کے بعد بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 95 برس تھی۔

مشتاق یوسفی برطانوی ہند کی ریاست راجستھان میں 4 اگست 1923ء کو پیدا ہوئے تھے۔ان کا آبائی وطن جے پور تھا جہاں انھوں نے گریجوایشن تک کی تعلیم حاصل کی۔ پھر علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم ۔ اے اور ایل۔ ایل بی کی ڈگری حاصل تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں آئی،سی ، ایس کا امتحان پاس کیا اور 1950ءتک بھارت میں ڈپٹی کمشنرکے عہدے پر فائز رہے تھے ۔ ان کے والدین نے تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کی تو وہ بھی 1956ء میں کراچی منتقل ہوگئے تھے۔

مرحوم پیشے کے اعتبار سے بنک کار تھے۔انھوں نے مسلم کمرشل بنک سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا تھا۔اس میں وہ بڑے عہدوں پر فائز رہے تھے اور پھر یونائیٹڈ بنک کے بھی صدر تھے۔ بنک کاری کے شعبہ میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات کے باوجود ان کی اصل پہچان اردو کے مایہ ناز اور رجحان ساز مزاح نگاری کی تھی۔انھوں نے اردو ادب میں شاہکار مزاحیہ فن پارے تخلیق کیے اور اردو کو منفرد شگفتہ مزاح سے مزیّن کیا۔

یوسفی صاحب کی پہلی کتاب ’’ چراغ تلے‘‘ 1961ء میں شائع ہوئی تھی اور اس نے ادبی حلقوں میں انھیں ایک مزاح نگار کے طور پر متعارف کرا دیا تھا۔ان کی دوسری کتاب خاکم بدہن 1970ء میں شائع ہوئی تھی ،زرگذشت 1976ء میں اورآب گم چودہ سال کے طویل وقفے کے بعد 1990ء میں شائع ہوئی تھی۔

تب تک ایک مزاح نگار کی حیثیت سے ان کی شہرت چار دانگ عالم پھیل چکی تھی اور اردو طنزومزاح میں وہ ایک بلند مقام پر فائز ہوچکے تھے۔ان کی آخری کتاب ’’شام شعر یاراں‘‘ 2014ء میں شائع ہوئی تھی لیکن یہ ان کے مداحوں میں کوئی زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کرسکی تھی۔

حکومت ِ پاکستان نے انھیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 1999ء میں ستارۂ امتیاز اور 2002ء میں ہلال امتیاز سے نواز ا تھا۔ان کے مزاح کی خصوصیت ان کا منفرد انداز ہے ۔وہ لفظوں سے کھیلتے اور موقع ومحل کی مناسبت سے ان کے خوب صورت بر جستہ استعمال سے ایک نئے معانی عطا کردیتے تھے۔وہ ایک جملے میں بڑی شگفتہ بات کہنے میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ ادبی محافل میں ان کے خوب صورت چٹکلے اکثر نقل کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کے صدر مملکت ممنون حسنت نے ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ہے اور ان کی مغفرت اور بلندیِ درجات کی دعا کی ہے۔انھوں نے ان کے انتقال پر ایک بیان میں کہا کہ مشتاق احمد یوسفی کی ادبی خدمات تا دیر یاد رکھی جائیں گی۔

پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف،پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور نگران وزیراعظم ناصر الملک سمیت مختلف سیاست دانوں اور ادبی شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آج ہمارے عہد کا اردو کا سب سے بڑا نثرنگار ہم سے رخصت ہو گاا۔دناہ بھر مںق اردوبولنے،پڑھنے اور لکھنے والے بےشمارافراد یوسفی صاحب کے انتقال پر سوگوار ہںے۔ وہ مزاح مں اپنی طرز کے موجد اور خاتم تھے.اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔