’’حمزہ شہباز کے بُوٹ پالش نہیں کرسکتا‘‘زعیم قادری کا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے سابق ارکان اسمبلی وفاداریاں تبدیل کرکے یا تو پاکستان تحریک ِانصاف میں شمولیت اختیار کررہے ہیں یا پھر آزاد حیثیت میں آیندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اعلانات کررہے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے لیڈر زعیم قادر ی نے جمعرات کو لاہور میں ایک نیوز کانفرنس میں جماعت کی قیادت سے اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار کردیا ہے اور انھوں نے کسی لاگ لپٹ کے بغیر کہا ہے کہ وہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور جماعت کے صدر میاں شہباز شریف کے بیٹے اورسابق رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز کے مزید بُوٹ پالش نہیں کرسکتے ۔

انھوں نے لاہور کے حلقہ این اے 133 سے آزاد حیثیت میں عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کے دو قریبی ساتھی سید عمران علی شاہ اور آصف رضا بیگ بالترتیب صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی پی 166 اور پی پی 167 سے عام انتخابات میں حصہ لیں گے۔

زعیم قادری نے کہا:’’ میں نے پی ایم ایل این کو زندگی اور رقم دی اور جیلوں میں اس کے لیے وقت گزارا‘‘۔نیوز کانفرنس سے قبل انھوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے لیڈر خواجہ سعد رفیق سے ملاقات کی ۔انھوں نے زعیم قادری پر زوردیا تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور جماعت کو نہ چھوڑیں لیکن ان کی یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی اور انھوں نے صحافیوں کے سامنے پھر کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کردیا ۔

زعیم قادری نے نیوز کانفرنس میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ حمزہ شہباز میں آپ کے خلاف الیکشن لڑوں گا،اپنے ملازمین ، بوٹ پالشیوں اور مالشیوں کو اپنی حمایت میں میدان میں لے آؤ‘‘۔

انھوں نے جمہوریت اور پی ایم ایل این کے لیے اپنے خاندان کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا:’’ حمزہ شہباز سنو ! لاہور تمہاری یا تمہارے باپ کی ملکیت نہیں ہے۔آپ نے دس سال تک پنجاب پر حکمرانی کی ہے ۔پنجاب میں اپنے ملازمین پر مشتمل یونٹ کو لاؤ اور میرے مقابلے میں الیکشن لڑو ‘‘۔

زعیم قادری کو آیندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔اس کے علاوہ وہ گذشتہ دس سال کے دوران میں پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کے کردار سے بھی سخت نالا ں دکھائی دیے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انھیں پی ایم ایل این کے ایک لیڈر نے کہا تھا کہ انھیں ٹکٹ نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ان کے پاس الیکشن لڑنے کے لیے درکار رقم نہیں ہے۔زعیم قادری پنجاب کےصوبائی وزیر اور وزیراعلیٰ کے مشیر رہے تھے۔ وہ مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کے ترجمان بھی رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں