معذوری کو شکست دینے والے پاکستان کے پہلے نابینا سول جج یوسف سلیم سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان میں بصارت سے محروم پہلے سول جج یوسف سلیم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ انھیں اس عہدے تک پہنچنے کے لیے طویل، کٹھن اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ بالآخر وہ تمام سماجی اور قانونی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے منگل کے روز اپنی منزل پانے میں کامیاب ہوگئے۔

یوسف سلیم نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے لاء کالج سے 2014ء میں قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ ایل ایل بی کے امتحان میں اول آئے تھے اور انھوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد وہ دو سال تک وکالت کرتے رہے تھے اور پھر انھوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تحت سول جج کا مقابلے کا امتحان دیا تھا اور نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ سول جج کی اکیس اسامیوں کے لیے کل ساڑھے چھے ہزار کے لگ بھگ درخواست گزار تھے لیکن ان سب میں سے صرف تین سو امیدوار مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو سکے تھے۔ تحریری امتحان میں یوسف سلیم نے سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔ پھر زبانی انٹرویو اور نفسیاتی ٹیسٹوں کے بعد انھیں بطور سول جج منتخب کر لیا گیا تھا۔

یوسف سلیم مطالعے کے لیے سکرین ریڈنگ سوفٹ وئیر استعمال کرتے ہیں۔ اس سوفٹ وئیر کے ذریعے سکرین پر جو کچھ ظاہر ہوتا ہے،اس کو استعمال کنندہ سن بھی سکتا ہے۔

یوسف سلیم نے "العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر یہ ایک اہم سنگِ میل ہے اور مجھے فخر ہے کہ مجھے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک نابینا شخص کی حیثیت سے سول جج کے طور پر کام کرنے کا موق ملا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’میں ایک جج بننا چاہتا تھا اور اللہ کا شکرہے کہ اس نے میرا یہ خواب شرمندہ ٔتعبیر کردیا ہے‘‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس نمایاں کامیابی پر ایک جانب تو بہت خوشی ہورہی ہے اور میری زندگی میں خوشی کا یہ ایک بڑا لمحہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بڑی ذمے داری بھی میرے کاندھوں پر آن پڑی ہے۔

واضح رہے کہ سول جج کے مقابلے کے امتحان میں اوّل آنے کے باوجود لاہور ہائی کورٹ کی سلیکشن کمیٹی نے یوسف سلیم کو منتخب نہیں کیا تھا۔مقامی اخبارات میں ان کی روداد چھپنے کے بعد چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس معاملے کا نوٹس لیا تھا اور کمیٹی کو ان کے دوبارہ انٹرویو کی ہدایت کی تھی۔ اس کے بعد 21 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کی سلیکشن کمیٹی نے انھیں تقرر نامہ جاری کردیا تھا۔

25 سالہ یوسف سلیم کے والد ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہیں۔ ان کی چار بہنیں ہیں اور ان میں بھی دو بصارت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے اپنی اس معذوری کو اپنی کامیابیوں کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہونے دیا اور اپنے عزم اور محنت کی بدولت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں