سابق وفاقی وزیر سپریم کورٹ سے 5 سال کے لئے نااہل قرار

میری جگہ والد الیکشن لڑیں گے، قانونی طور پر پیش رفت کریں گے: دانیال عزیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سپریم کورٹ آف پاکستان نے (ن) لیگ کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں عدالت کے برخاست ہونے تک قید کی سزا سنا دی۔ چند سیکنڈ کی سزا دانیال عزیز نے کمرہ عدالت میں عدالت برخاست ہونے تک پوری کر لی۔ عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد دانیال عزیز پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے دیئے گئے۔

اس قسم کی سزا سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو بھی سنائی گئی تھی اور انہیں پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا اور وہ گذشتہ انتخابات نہیں لڑ سکے تھے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 3 مئی کو مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بینچ کے رکن جسٹس مشیر عالم نے جمعرات کے روز دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا۔ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر سپریم کورٹ میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور احاطہ عدالت میں بکتر بند گاڑی بھی منگوائی گئی تھی تاہم عدالت نے دانیال عزیز کو جیل بھیجوانے کا حکم نہیں دیا اور عدالت کے برخاست ہونے تک سزا سنائی جو چند سیکنڈ میں مکمل ہو گئی۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت دانیال عزیز کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا۔جسٹس مشیر عالم نے دانیال عزیز کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ آپ توہین عدالت کے مرتکب قرار پائے ہیں ثابت ہو گیا ہے کہ آپ نے توہین عدالت کی ہے۔ آپ نے عدالت کو سکینڈل لائز کرنے کی کوشش کی۔ دانیال عزیز پر عدالت کی تذلیل اور توہین کرنے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں دانیال عزیز نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے فیصلے پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ مقصود تھا کہ عمران خان کو بچانا ہے اور جہانگیر ترین کو سزا دینی ہے جبکہ دانیال عزیز پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ انہوں نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ نگران جج کو یہ بتانا پڑے گا کہ دبئی کی کمپنی ایف زیڈ ای کا انہیں کس نے بتایا۔ یہ دو الزامات دانیال عزیز پر ثابت ہوئے ہیں جبکہ ریفرنس تیار کرنے کا الزام دانیال عزیز کے خلاف ثابت نہیں ہوا عدالتی فیصلہ کے نتیجہ میں دانیال عزیز انتخابات میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے انہیں پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ دانیال عزیز کو آئین کے آرٹیکل 63 ون جی کے تحت سزا دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے 2018 کے انتخابات کے لیے نااہل قرار پانے والے سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے کہا ہے کہ ہم نے ممکنہ طور پر متبادل فیصلہ کیا ہوا تھا، میرے والد نے میرے حلقے سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہوئے ہیں۔ میری جگہ میرے والد میرے حلقے سے الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر ہم نے لاک ڈائون نہیں کیا، اسلام آباد پر حملہ نہیں کیا۔ اداروں کو مضبوط کرنے کی تگ ودو کی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں اپنے خلاف فیصلہ سنانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کا مزید کہنا ہے کہ فیصلہ پڑھ کرقانونی طورپر پیش رفت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے خلاف تین الزامات تھے، کچھ 8ماہ اور کچھ 10ماہ پرانے تھے، پہلے چارج میں میری ایک پریس کانفرنس تھی۔

دانیال عزیز نے کہا کہ پہلے چارج کے گواہ نے تسلیم کیا کہ میں نے وہ لفظ کہے ہی نہیں، واحد گواہ جس کیس میں پیش ہوا اس میں مجھے بری کردیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ مقامی چینل کو وہ ویڈیو کسی اور ذریعے سے ملی تھی، ویڈیو چلائی تو مقامی چینل کی آڈیو میں ٹون چلی یعنی وہ لفظ بولے ہی نہیں گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیسرا چارج عمران خان سے متعلق فیصلے پر میرے جملے تھے، پہلے چارج میں مجھے بری کیا گیا جبکہ چند ماہ پہلے کے چارج پر عدالت برخاست ہونے تک سزا ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے جیل کاٹی نہ یوسف رضا گیلانی کی طرح عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، تاہم پھر بھی مجھے سزا دے دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں