.

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرینس کی سماعت مکمل ،فیصلہ 6 جولائی کو سنایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد میں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ،ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ کپتان محمد صفدر کے خلاف دائر ایوین فیلڈ جائیدادوں کے ریفرینس کی سماعت مکمل کرلی ہے اور اس کا فیصلہ جمعہ 6 جولائی کو سنایا جائے گا۔

قومی احتساب بیورو ( نیب) نے عدالتِ عظمیٰ پاکستان کے حکم پر میاں نواز شریف اور ان کے تینوں بچوں اور داماد کے خلاف ایوین فیلڈ ریفرینس دائر کیا تھا۔ نیب کے پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کے روبرو یہ موقف اختیار کیا تھا کہ میاں نواز شریف نے پارک لین لندن کے علاقے میں واقع ایون فیلڈ ہاؤس میں چار اپارٹمنٹس نامعلوم مالی ذرائع سے خرید کیے تھے۔

تاہم شریف خاندان نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ انھوں نے قانونی مالی ذرائع سے یہ اپارٹمنٹ خرید کیے تھے لیکن وہ احتساب عدالت یا عدالت ِ عظیٰ کے سامنے ان قانونی ذرائع کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

عدالت عظمیٰ کے جولائی میں پاناما گیٹ کے فیصلے کے بعد ستمبر 2017ء میں ایون فیلڈ ریفرینس کیس کی احتساب عدالت میں سماعت شروع ہوئی تھی اور عدالت عظمیٰ نے احتساب عدالت کو اس کیس کی چھے ماہ میں سماعت مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ احتساب عدالت نے 19 اکتوبر کو میاں نواز شریف ، ان کی بیٹی مریم صفدر اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف فرد جرم عاید کی تھی۔

استغاثہ نے ان کے خلاف احتساب عدالت میں اکیس گواہ پیش کیے تھے۔ان میں پاناما گیٹ کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاء ، نیب کے ڈائریکٹر جنرل ظاہر شاہ ، برطانوی فورینزک ماہر رابرٹ ولیم ریڈلے اور واجد ضیاء کے کزن ایک برطانوی وکیل اختر ریاض راجا شامل ہیں۔میاں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے مئی میں اس کیس میں اپنے اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے منگل کو وکیل صفائی امجد پرویز کے دلائل مکمل ہونے کے فوری بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور تمام مدعاعلیہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ 6 جولائی کو فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔