.

مستونگ انتخابی ریلی میں دھماکا: سراج رئیسانی سمیت 128 جاں بحق

دھماکا کوئٹہ سے 35 کلومیٹر جنوب مغرب میں کوئٹہ تفتان شاہراہ کے قریب واقع درینگڑھ کے علاقے میں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بلوچستان عوامی پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران خود کش حملے کے نتیجے میں سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی صوبائی اسمبلی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت 128 افراد جاں بحق جب کہ 120 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی میڈیا کے مطابق سراج رئیسانی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔

لیویز حکام کے مطابق جمعہ کو ہونے والے اس حملے میں حال ہی میں بننے والی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی کو نشانہ بنایا گیا۔ خودکش حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور دہشت گردی کے واقعے میں جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

سراج رئیسانی کے بڑے بھائی لشکری رئیسانی نے خود کش حملے میں سراج رئیسانی کے شہید ہونے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ واقعہ کے بعد امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر دھماکے کی جگہ سے شواہد اکھٹے کرنا شروع کردیے ہیں۔ مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ضلع مستونگ کے ڈپٹی کمشنر قائم خان لاشاری نے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ سے تقریبا 35 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں کوئٹہ تفتان شاہراہ کے قریب واقع درینگڑھ کے علاقے میں ہوا جہاں بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلی اسلم رئیسانی کے بھائی اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ بی پی 35 سے امیدوار سراج رئیسانی ایک انتخابی جلسے میں شرکت کر رہے تھے۔

سیکریٹری داخلہ بلوچستان حیدرعلی شکوہ کا کہنا تھا کہ مستونگ میں ہونے والے دھماکے میں نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت کم از کم 70 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر مستونگ کے مطابق سابق وزیراعلی بلوچستان اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی اور بی اے پی کے انتخابی امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی اپنی انتخابی مہم کے دوران قافلہ کے ساتھ درینگڑھ کے علاقے سے گزر رہے تھے کہ قریب ہی زور دار دھماکا ہوا۔ بعد ازاں ڈی پی او مستونگ نے تصدیق کی کہ سراج رئیسانی دم توڑ گئے ہیں اور دیگر 60 بھی جاں بحق ہو گئے ہیں اور 30 سے زائد زخمی ہیں تاہم سیکریٹری داخلہ نے 70 افراد کے دم توڑنے اور 50 سے زائد زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ دھماکے میں سراج رئیسانی شدید زخمی ہوئے ہیں اور انھیں دیگر زخمیوں کے ساتھ طبی امداد کے لیے کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ دوسری جانب مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ چھٹی پر موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ ترجمان سول ہسپتال کوئٹہ کے مطابق مستونگ دھماکے کے متعدد زخمیوں کو یہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔

خیال رہے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے اور حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ دوسری جانب نگراں وزیراعلی بلوچستان علاوالدین مری نے مستونگ میں سراج رئیسانی کے قافلے پر بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مستونگ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مستونگ دھماکے میں شہید ہونے والے پی بی 35 مستونگ سے عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی کی شہادت کے بعد حلقے میں الیکشن ملتوی کر دیا گیا جب کہ پی بی 35 مستونگ میں انتخاب ضمنی الیکشن کے ساتھ ہوگا۔ ادھر مستونگ واقعہ کے تناظر میں وزیراعلی بلوچستان کے زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا۔ اجلاس میں صوبہ بھر میں امن وامان کی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے حکام شریک ہوں گے۔

وزیرِاعظم ناصر الملک اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مستونگ بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں سراج رئیسانی سمیت دیگر افراد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امدادی دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے بنوں اور مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں دھما کوں کی شدید مذمت کی ہے اپنے بیان میں انہوں نے دھماکوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے بھی سراج رئیسانی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملے میں مرنے والوں کے ساتھ اظہارِ افسوس اور تعزیت کی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے مستونگ بلوچستان واقع کا نوٹس لیتے ہوئے نگران وزیرِ اعلی بلوچستان، آئی جی اور چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود کیوں سیکیورٹی کا مناسب انتظام نہیں کیا جاتا؟ انہوں نے تمام امیدواروں کو بلا امتیاز سیکیورٹی فراہم کرنے اور الیکشن کیلئے ماحول پرامن اور سازگار بنانے کی ہدایت کی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سراج رئیسانی بلوچستان کے حلقہ پی پی 35 مستونگ سے بی اے پی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ اسی حلقے میں اسلم رئیسانی اپنے بھائی کے مخالف آزاد حیثیت میں لڑ رہے تھے۔ سراج رئیسانی کو اسلم رئیسانی کے دور میں بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ خود بچ گئے تھے البتہ ان کا بیٹا ہلاک ہو گیا تھا۔سراج رئیسانی کو حکومت سے قریب سمجھا جاتا تھا۔ یہ بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں انتخابی جلسوں پر تیسرا حملہ ہے۔

گذشتہ شب خضدار میں بی اے پی کے دفتر کے قریب دھماکا ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہوئے تھے۔اس کے علاوہ کراچی سے متصل حب کے علاقے میں تحریکِ انصاف کی کارنر میٹنگ پر گرینیڈ حملہ ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری بلوچ عسکری تنظیموں نے قبول کی تھی۔ ان تنظیموں نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔

پاکستان میں انتخابی امیدواروں پر جمعہ کو حملوں کے دو واقعات میں کم از کم 170 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جمعہ کو ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جعمہ کو ہی خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں متحدہ مجلسِ عمل کے ٹکٹ پر جمعیت علمائے اسلام [ف] کے امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے میں تین افراد جاں بحق اور 39 زخمی ہوئے تھے۔ تاہم سابق وزیر اعلی اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔