.

شاہ سلمان اور ولی عہد کا خودکش حملے میں پاکستانیوں کے جانی نقصان پر اظہارِ افسوس

حکومتِ پاکستان کا اتوار کو دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں انسانی جانوں کے ضیاع پر یومِ سوگ منانے کا ا علان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کے جنوب مغربی شہر مستونگ میں جمعہ کو خود کش بم دھماکے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مستونگ میں ایک انتخابی ریلی کے دوران میں خودکش بم دھماکے میں 128افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس بم حملے میں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان نے صدر ممنون حسین کے نام ایک تعزیتی پیغام میں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔سعودی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے ایک بیان میں مملکت کی جانب سے اس بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں پاکستان کی حکومت اور برادر قوم کے ساتھ بھی تباہ کن بم دھماکے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کااظہار کیا گیا ہے۔بیان میں سعودی عرب کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یک جہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔

یومِ سوگ

پاکستان کی وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اتوار کو ملک بھر میں یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ملک میں عام انتخابات سے قبل دہشت گردی کے واقعات میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کی شہادتوں کے سوگ میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 10 جولائی کی شب عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی جلسے میں ایک خودکش بم دھماکے میں صوبی اسمبلی کے حلقہ پی کے 78 سے امیدوار ہارون بلور سمیت بیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

13 جولائی کو اسی صوبے کے ضلع بنوں میں متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے) کے امیدوار برائے قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر محمد اکرم خان درانی کے قافلے پر بم حملہ کیا گیا تھا۔ وہ خود اس حملے میں محفوظ رہے تھے لیکن ان کے چار حامی جان کی بازی ہار گئے تھے۔

اسی روز سہ پہر کو مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی ( باپ) کے مستونگ سے صوبائی حلقہ پی بی 35 سے امیدوارنواب سراج رئیسانی کے انتخابی جلسے میں تباہ کن بم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں نواب رئیسانی سمیت 128 افراد جاں بحق اور 200 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

دسمبر 2014ء میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد دہشت گردی کا یہ سب سے بڑا واقعہ تھا ۔ سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں نے نگران حکومت سے بہتر سکیورٹی انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول زرداری نے حالیہ بم دھماکوں کے بعد اپنی انتخابی سرگرمیاں محدود اور ریلیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔