.

نواز شریف کو اڈیالا جیل میں چہل قدمی کے لیے صحن اور باورچی مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو راول پنڈی کی اڈیالا جیل میں باورچی اور چہل قدمی کے لیے ایک صحن دے دیا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے نگرا ن وزیر اطلاعات احمد وقاص ریاض نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کو ان کے استحقاق کے مطابق تما م سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں اور انھیں جیل کی ’’بہتر کلاس‘‘ کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔

میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو 13 جولائی کو لندن سے واپسی پر گرفتار کرکے اڈیالا جیل منتقل کیا گیا تھا۔انھیں اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرینس کیس میں بالترتیب دس سال اور سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔مریم نواز کو اسی جیل کے خواتین والے حصے میں قید کیا گیا ہے۔

پنجاب کی نگران حکومت نے انھیں سہولتیں مہیا کرنے سے متعلق یہ وضاحت پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کے حکومت کے نام خط کے جواب میں کی ہے۔انھوں نے اپنے بڑے بھائی اورسابق وزیراعظم کو جیل میں بہتر سہولتیں مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے نگران وزیراعظم ناصر الملک اور نگران وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری رضوی کے نام خط میں لکھا تھا کہ میاں نواز شریف کو اڈیالا جیل میں انتہائی ابتر ماحول میں رکھا جارہا ہے۔ انھیں اخبار تک مہیا نہیں کیا جارہا ہے۔ان کے کمرے میں نہ تو ائیر کنڈیشنر تھا اور سونے کے لیے فرش پر گدا بچھایا گیا تھا۔

تاہم جیل خانہ جات کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ملک مبشر نے ایک تحریری بیان میں میاں شہباز شریف کے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ میاں نواز شریف کو 14 جولائی سے سابق رکن اسمبلی کی حیثیت سے بہتر کلاس کی درج ذیل سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں:

1۔انھیں اپنے ذاتی کپڑے لینے ، بیڈ ، میٹریس ، جوتے ، کرسی ،میز ، 21 انچ ٹیلی ویژن چینل ، ریڈیو اور اخبارات اپنے خرچ پر لینے کی اجازت ہے۔

2۔انھیں جیل کی بہتر کلاس کے حصے میں ایک کوٹھڑی میں قید کیا گیا ہے۔انھیں جیل میں چہل قدمی کے لیے مناسب جگہ دی گئی ہے۔

3۔جیل کا طبی عملہ اور راول پنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر باقاعدگی سے ان کے میڈیکل چیک اپ کرتے ہیں اور ان کی صحت اطمینان بخش ہے۔

4۔انھیں ایک خصوصی باورچی مہیا کردیا گیا ہے۔انھیں ڈاکٹروں کی تجویز کردہ غذا مہیا کی جارہی ہے۔انھیں کھانے کے لیے پھل ، سلاد ، کھجوریں اور قیمہ دیا جارہا ہے۔

5۔میاں نواز شریف کے خاندا ن کے افراد اور دوست کسی بھی جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں جبکہ ان کے وکلاء ہفتے میں کسی ایک دن ان سے مل سکتے ہیں ۔