.

الیکشن پاکستان 2018: اگلے پانچ سال تک کون حکمران، فیصلہ چند گھنٹوں بعد

ملک بھر میں فوج کی نگرانی میں ووٹنگ کا عمل شام چھ بجے تک جاری رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فوج کی سیکیورٹی میں 25 جولائی 2018 کو پاکستان بھر میں قومی اسمبلی کی 272 اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 577 نشستوں پر عام انتخابات جاری ہیں۔ پونے چار لاکھ فوج کے جوان اور چار لاکھ پولیس فورس الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ پہلی بار انتخابات کیلئے تین لاکھ 71 ہزارفوج کے جوان پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر تعینات ہیں۔ عام انتخابات کے نتائج میں 43 فیصد نوجوان ووٹرزکا اہم کردار خیال کیا جا رہا ہے۔

انتخابی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 ووٹرز ملک بھر میں 85 ہزار 307 پولنگ اسٹیشنز میں حق رائے استعمال کر رہے ہیں۔ پنجاب کی297، خیبر پختونخوا 99، سندھ 130 اور بلوچستان کی 51 نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ پولنگ صبح 8 بجے سے شام چھ بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہے گی۔ 22 کروڑ کی آبادی میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 ہے، جن میں چار کروڑ سے زائد یعنی 43 فیصد نوجوان ووٹرز ہیں جن کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہے۔ ان کل ووٹرز میں سے پنجاب میں 6 کروڑ 6 لاکھ، 72 ہزار 870، سندھ میں 2 کروڑ 23 لاکھ 91 ہزار 244، کے پی [سابقہ فاٹا] میں ووٹرز کی تعداد ایک ایک کروڑ 78 لاکھ 26 ہزار 453 جبکہ بلوچستان میں 42 لاکھ 99 ہزار 494 اور اسلام آباد میں 7 لاکھ 65 ہزار 623 ہے۔

اقلیتی ووٹرز 36 لاکھ 30 ہزار ہیں، جن میں ہندو ووٹرز 17 لاکھ 70 ہزار، مسیحی 16 لاکھ 40 ہزار، سکھ 8 ہزار 852، پارسی 4 ہزار 235 اور بدھ مت کو ماننے والے ووٹرز کی تعداد 18 سو 84 ہے۔ تمام متذکرہ ووٹرز ملک بھر میں 85 ہزار 307 پولنگ ا سٹیشنز میں حق رائے استعمال کر رہے ہیں۔ مردوں کیلئے 23 ہزار 424، خواتین کیلئے 21 ہزار 707 اسی طرح مشترکہ 40 ہزار 133 پولنگ اسٹیشنز ہیں۔ وفاق اور چاروں صوبوں میں نگراں حکومتوں نے الیکشن کمیشن کو تمام مطلوبہ سہولیات فراہم کی ہیں پاک فوج کے جوان محفوظ پرامن انتخابات کے لئے ملک بھر میں تعینات ہیں۔

آئین کے مطابق انتخابات کی نگرانی اور اس کے منصفانہ اور شفاف انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن سے تعاون کرنا فرائض میں شامل ہے جب کہ نئی قانون سازی کے ذریعے الیکشن کمیشن بہت زیادہ خودمختار اور آزاد ادارہ بنایا گیا ہے، اسے وہ اختیارات حاصل ہیں جو آج تک 70 سالہ تاریخ میں حاصل نہیں ہوئے۔ اس ایکٹ کے تحت تمام ادارے الیکشن کمیشن کے احکامات پر عملد رآمد کے پابند ہیں۔ ساڑھے 12ہزار امیدوار الیکشن میدان میں ہیں۔ انتخابی منشور بھی جاری کئے گئے۔

الیکشن کمیشن نے 85 ہزار میں سے 17 ہزار پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیئے ہیں۔ قیام امن کے لئے تین لاکھ 71 ہزار فوج کے جوان ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر تعینات ہوں گے۔ سیکورٹی کے بڑے پیمانے پر انتخابی انتظامات کئے گئے ہیں۔ تقریبا ساڑھے تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین الیکشن ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ پونے چار لاکھ فوج کے نوجوان اور چار لاکھ پولیس فورس الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہے۔

رپورٹ کے مطابق چالیس ہزار سے زائد پاکستانی فریضہ حج کی ادائی کیلئے جا چکے ہیں جبکہ 80 ہزار قیدی جیلوں میں قید ہیں۔ یہ ووٹ پول نہیں ہوسکیں گے۔ 18 لاکھ پوسٹل بیلٹ پیپر بھی چھاپے گئے تھے معلوم نہیں ہو سکا۔ 18لاکھ میں سے کتنے پوسٹل بیلٹ استعمال ہوئے ہیں۔ اسی طرح بیرون ملک 58 لاکھ اہل پاکستانی ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہیں۔