.

عام انتخابات :نتائج مرتب کرنے کا عمل جاری ،پی ٹی آئی کی 110 نشستوں پر برتری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان بھر میں منعقدہ گیارھویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کی تکمیل کے بعد ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کا عمل جاری ہے اوردھیرے دھیرے غیر حتمی اور غیر سرکاری انتخابی نتائج کا اعلان کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں پانچ سال کے بعد ہونے والے ان انتخابات میں سابق حکمراں پاکستان مسلم لیگ نواز اور عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ابتدائی غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی یا اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کو 110 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ پی ایم ایل این کو 67 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر ہے اور 38 نشستوں پر اس کے امیدوار جیت رہے تھے۔

رات گئے صوبہ خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کے جن حلقوں کے پولنگ مراکز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آئے ہیں،ان کے مطابق پی ٹی آئی کو مسلم لیگ نواز پر برتری حاصل ہے اور صوبہ پنجاب میں دونوں کے امیدواروں میں سخت مقابلہ جاری ہے۔صوبہ سندھ میں بعض حلقوں سے پیپلز پارٹی اور بعض سے پی ٹی آئی کے امیدوار جیت رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن پاکستان نے پولنگ کا وقت آٹھ بجے سے شام چھے بجے تک مقرر کیا تھا۔البتہ مقررہ وقت کے اختتام پر پولنگ مراکز کی حدود میں موجود ووٹروں کو بھی اپنا حق رائے دہی استعما ل کرنے کی اجازت دے دی گئی۔پولنگ کا عمل مکمل ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔

پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی 271 اور صوبائی اسمبلیوں کی 576نشستوں کے انتخاب کے لیے بیک وقت ووٹ ڈالے گئے ہیں۔قومی اسمبلی کی ایک اور صوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی ایک نشست کا انتخاب ملتوی کردیا گیا تھا۔

عام انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور سکیورٹی فورسز کے تین لاکھ ستر ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات تھے۔ ہزاروں پولیس اہلکاروں کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔مگر اس کے باوجود ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

صبح پولنگ کے آغاز کے وقت صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک خودکش بم دھماکے میں اکتیس افراد جاں بحق اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔صوبہ پنجاب ، خیبر پختونخوا اور سندھ میں پاکستان تحریک انصاف ، مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے درمیان لڑائی اور دھینگا مشتی کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم مجموعی طور پر پولنگ پُرامن رہی ہے۔