عمران خان کا وسیع تر اصلاحات کا وعدہ ،مبیّنہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کی پیشکش

بھارت کو مذاکرات کی دعوت ،چین ،افغانستان ، سعودی عرب اور ایران سے تعلقات مزید بہتر بنانے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان نے عام انتخابات میں اپنی جماعت کی واضح برتری کے بعد عام آدمی کی حالت بہتر بنانے اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے ملک میں وسیع تر اصلاحات کا وعدہ کیا ہے ۔پڑوسی ملک بھارت کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی دعوت دہی ہے اور کہا ہے کہ بھارت اگر تنازعات کے حل کے لیے ایک قدم اٹھاتا ہے تو ہم دو قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔انھوں نے چین ،افغانستا ن ، ور سعودی عرب سے تعلقات مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے یہ باتیں عام انتخابات کے ایک روز بعد جمعرات کو اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں واقع اپنی قیام گاہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی گئی ایک نشری تقریر میں کہی ہیں۔ان کی جماعت نے عام انتخابات میں اب تک غیر سرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کی 120 نشستیں حاصل کی ہیں۔اس کی قریب ترین حریف سابق حکمراں مسلم لیگ نواز نے 61 نشستیں حاصل کی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اگر پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تواس سے خطے میں بھی بہتری آئے گی اور غربت کے خاتمے کے لیے تجارتی تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔ پاکستان بھارت کی قیادت کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہے کہ آئیں مسئلہ کشمیر کو حل کریں ۔انھوں نے کہا کہ ہم چین، افغانستان ،ایران اور سعودی عرب سے تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے اور پاک امریکہ تعلقات میں بھی بہتری لائی جائے گی۔

انھوں نے بالخصوص پاکستان کے دیرینہ دوست چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس سے بہت کچھ سیکھیں گےاور ملک سے غُربت اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اس کے اقدامات اور تجربات سے سبق سیکھیں گے۔جس طرح وہاں وزراء کا احتساب کیا گیا ہے،اسی طرح پاکستان میں احتساب وزیر اعظم سے شروع ہو گا اور وزراء اور تمام عمال کا بھی احتساب ہو گا ۔

انھوں نے عام انتخابات کے پُرامن ماحول میں انعقاد میں سکیورٹی اداروں کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا اور انتخابی مہم کے دوران میں بم دھماکوں میں شہید ہونے والے سیاسی لیڈروں ،سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور عام شہریوں کو خراج ِعقیدت پیش کیا ۔انھوں نے ووٹ کی طاقت کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط بنانے میں بلوچستان کے عوام کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ میں پورے ملک کی جانب سے انھیں مبارک باد اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

عمران خان نے دوسری جماعتوں کو مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کی پیش کش کی اور کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے تشکیل دیا تھا اور نگران حکومت بھی تمام سیاسی جماعتوں نے مشاورت سے بنائی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے 2013 میں دھاندلی کی بات کی تو ساری جماعتوں نے میری مخالفت کی تھی لیکن اب اگر کسی جماعت کو کسی بھی حلقے میں دھاندلی کی شکایت ہے تو ہم تعاون کریں گے اور وہ حلقے کھلوائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کا سب سے صاف اور شفاف الیکشن ہوا ہے جس پر پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ہم اس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں کہ کمزور اور محروم طبقات کی حالت بہتر بنائی جائے ۔یتیموں، بیواؤں ، معذوروں ، بے کسوں کی ذمہ داری ریاست لے گی۔ ہماری حکومت ایسی پالیسیاں اختیار کرے گی جن کے نتیجے میں کمزور طبقہ خوش حال ہوگا ۔کسانوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھائیں گے۔ بچوں کا خصوصی طور پر تحفظ کیا جائے گا ۔اس وقت پاکستان میں 45فی صد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ اڑھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔زچگی کے دوران میں خواتین کی شرح اموات پاکستان میں بہت زیادہ ہے۔ لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کو کرپشن کی وجہ سے ان حالات سے دو چار کر دیا گیا ہے۔

عمران خان نے اعلان کیا کہ ان پر جو الزامات لگائے گئے ، وہ انھیں فراموش کرتے ہیں اور ملک کے حالات ایسے نہیں کہ ہم ذاتیات میں پڑیں۔ پاکستان کی پہلی حکومت ہو گی جس کے دور میں کوئی سیاسی انتقام نہیں ہو گا ۔مخالفین کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ انتقامی کارروائیاں نہیں ہوں گی قانون کی بالادستی قائم کریں گے۔ مضبوط اداروں کے ذریعے کرپشن کو روکیں گے ۔احتساب وزیر اعظم سے شروع ہو گا ۔وزراء کا بھی احتساب ہو گا۔ کرپشن پاکستان کو کینسر کی طرح چاٹ رہی ہے ۔اس کے انسداد کے لیے قومی احتساب بیورو کو مضبوط کریں گے ۔ایف بی آر کی تشکیل نو کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا وزیر اعظم ہاؤس ایک شاہانہ محل ہے۔مجھے اس میں جاتے ہوئے شرم آئے گی۔ اس بڑے محل کو تعلیمی ادارہ بنا دیں گے اور وزیر اعظم وزراء کالونی میں رہے گا۔ تمام سرکاری ریسٹ ہاؤسز کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کریں گے اور ان کی آمدن مقامی آبادی پر خرچ کی جائے گی ۔اب پاکستان میں حکمرانوں کی عیاشیاں نہیں ہوں گی ۔ صوبائی گورنر ہاؤسز کو بھی عوام کے لیے استعمال کریں گے۔

اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے اداروں کو مضبوط کریں گے کوئی باہر سے آکر ٹھیک نہیں کرے گا ہم نے یہ سب کام کرنے ہیں لوگوں کو ہنر سکھائیں گے ۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کی طرف سے انتخابی منشور کی صورت میں جو بھی وعدے کیے گئے ہیں ،وہ انھیں حکومت میں آنے کے بعد پورا کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں