میاں نواز شریف سخت علیل ، ڈاکٹروں کی سفارش پر اڈیالا جیل سے پمز منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

راول پنڈی کی اڈیالا جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو طبیعت بگڑ جانے کے بعد پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پمز) اسلام آباد منتقل کردیا گیا ہے۔

انھیں اڈیالا جیل سے گاڑیوں کے ایک قافلے میں اسلام آباد لایا گیا ہے۔اس میں پولیس کی گاڑیوں کے علاوہ، ایک بکتر بند اور دو ایمبولینس گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد پمز میں جمع تھی اور جونھی ان کا قافلہ وہاں پہنچا تو انھوں نے میاں نواز شریف کے حق میں نعرے بازی شروع کردی۔

پمز کے شعبہ امراض ِ دل کے سربراہ ڈاکٹر نعیم ملک نے قبل ازیں بتایا کہ نواز شریف کے خون کے نمونوں میں لوتھڑے ظاہر ہوئے ہیں ،یہ ایک خطرے کی علامت ہے اور ان کے طبی ریکارڈ کے پیش نظر حکام سے انھیں پمز منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ( ن) کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف مختلف امراض میں مبتلا ہیں ۔ انھیں ذیابیطس کا مرض لاحق ہے،ان کی بائی پاس سرجری ہوئی ہے اور وہ اس وقت دل کی بیماری ، کولیسٹرول اور ذیابیطس کی ادویہ لے رہے ہیں۔

اڈیالا جیل میں راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر عامر خان نےان کے بائیں بازو اور سینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد ان کا معائنہ کیا تھا اور انھیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ انھیں راول پنڈی کارڈ یا لوجی سینٹر میں منتقل کرنے کے انتظامات بھی مکمل کرلیے گئے تھے اور اس کی رپورٹ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کو بھیج دی گئی تھی۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کی ای سی جی ٹھیک نہیں آئی۔ اس لیے پمز میں ان کے علاج کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ تاہم وہاں ان کی سکیورٹی کی ذمے دار اسلام آباد پولیس ہوگی ۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 6جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیراعظم کو دس سال قید کی سزا کا حکم دیا تھا اور انھیں 13جولائی کو لندن سے پاکستان واپسی پر گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔ان کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز بھی اسی جیل میں قید ہیں۔انھیں عدالت نے سات سال قید کا حکم دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں