.

سیاسی جماعتوں کا "انتخابی دھاندلی" کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اتحاد برائے آزادانہ وشفاف انتخابات نے اسٹیبلشمنٹ پر انتخابات میں مداخلت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے از سر نو انتخابات کا مطالبہ کردیا۔ عمران خان کی حکومت نہیں چلنے دیں گے۔ جعلی مینڈیٹ کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو آزاد، جمہوری اسلامی پاکستان کی دوبارہ جدوجہد کی جائے گی۔ اسٹیبلشمنٹ طور طریقے تبدیل کر دے اس کی جانب داری ملکی سالمیت کے خلاف ہے۔ الیکشن کمیشن کی تالا بندی کرسکتے ہیں۔ خبردار کرتے ہیں کہ یہ دفتروں میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ چودہ اگست یوم آزادی کو جدوجہد آزادی کے طور پر منائیں گے۔ اب چاروں صوبائی الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنے دیئے جائیں گے۔

اس امر کا اظہار بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف اتحادی جماعتوں کے قائدین مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، قمر زمان کائرہ، احسن اقبال، میاں افتخار حسین، میاں محمد اسلم نے انتخابی امیدواروں کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے میں 25 جولائی کو اتحادی جماعتوں کے کامیاب اور ہارنے والے امیدواروں نے شرکت کی۔ عوام کو کال نہیں دی گئی تھی اس کے باوجود بڑی تعداد میں مختلف جماعتوں کے کارکنان شاہراہ دستور پر جمع ہو گئے ہیں۔ دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین میاں شہبازشریف، بلاول بھٹو زرداری مظاہرے میں شریک نہ ہو سکے۔ مظاہرے میں شریک سیاسی رہنمائوں نے خود بھی نعرے لگوائے مظاہرے کے دوران "یہ جو نامعلوم ہے ہم سب کو معلوم ہے"، "خلائی مخلوق، خلائی انتخابات نامنظور" کے نعرے لگتے رہے اور پاکستان اتحاد برائے آزادانہ و شفاف انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے اراکین سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دستور کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ جمہوریت پر شب خون برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ووٹرز کے بنیادی حق کو پامال کیا گیا ہے سارے قوانین کی نفی کی گئی اس سے استحکام نہیں آ سکتا۔ جمہوریت، آئین وقانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کیلئے ہم نے قربانیاں اور جدوجہد کی ہے۔ ہم خبردار کرتے ہیں کہ اس جدوجہد کو ضائع نہیں ہونے دیں گے اب مذاق نہیں چلے گا۔ عوامی مینڈیٹ ڈاکہ ڈال کر چھینا گیا ہے۔ ملک بھر میں شاہرائیں بند ہیں عوام سڑکوں پر کھڑے ہیں ملی بھگت کے ذریعے نتائج تیار کئے گئے الیکشن کمیشن ناکام رہا، ایسے کمیشن کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ الیکشن کمیشن سوالیہ نشان ہے یہ الیکشن کمیشن قابل قبول نہیں ہے۔ عدلیہ کی بھی اس بارے میں شکایات سامنے آئیں ہیں اور اس کے غیر جانبدار کردار کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان ہے۔

اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں اپنی غیر جانبداری کھو بیٹھی ہے۔ نوازشریف کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا۔ جعلی اکثریت جعلی وزیراعظم کو نہیں مانتے اسے انتخابی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ اس جعلی اور نااہل وزیراعظم کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ نے خود کو بے نقاب کردیا ہے مگر ہم اس کی خواہش کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ چودہ اگست کو یوم آزاد نہیں ہوگا یوم جدوجہد آزادی ہوگا۔ جدوجہد آزادی کے دن کے طور پر منائیں گے اگر ادارے اور کچھ قوتیں حاکم بننے کی کوشش کریں گے تو انہیں تسلیم نہیں کرتے۔ یہ ملک عوامی جدوجہد سے ملا فوج تو اس وقت انگریزوں کا دفاع کر رہی تھی جس طرح آج افغان فوج امریکیوں کا دفاع کر رہی ہے۔ اگر پاکستان کی فوج رہنا چاہتے ہیں تو طور طریقے تبدیل کرنے ہوں گے۔ جعلی قوتوں کی پشت پناہی کو ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان کی آزادی وخودمختاری جمہوریت اس کی بقاء اور سالمیت کی جنگ لڑی ہے اور اگر اسٹیبلشمنٹ مداخلت جاری رکھتی ہے تو ہم بھی پھر پاکستان کی آزادی جمہوریت اور اسلامی تشخص کو از سر نوجدوجہد کریں گے۔ جعلی مینڈیٹ سے دستبردار ہوں اب چاروں صوبائی الیکشن کمیشنوں کے سامنے دھرنے ہوں گے۔ اس سے کئی گنا زیادہ لوگ ہوں گے اس لیے جدوجہد کی پاکستان آزاد، جمہوری اسلامی ریاست بنے۔ کیا اب یہ جدوجہد دوبارہ شروع کریں گے۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کسی کو برا بھلا نہیں کہنے آئے حکمران نوشتہ دیوار پڑھ لیں ابھی کارکنان کو نہیں بلایا بلکہ کامیاب اور ہارنے والے امیدواروں کو جمع کیا ہے کوئی کسی کا غلام نہیں ہے۔ ججز، جرنیلوں اور سیاستدانوں نے حلف اٹھایا کہ آئین کو خطرہ ہوا تو اس کی پاسداری کیلئے کھڑے ہو جائیں گے۔ جاسوسی اداروں نے مداخلت کی اور جب فوجی مداخلت ہوتی ہے تو ملک کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے مداخلت سے توبہ نہ کی تو خدانخواستہ ملک ٹوٹ جائے گا ملک برباد ہو جائے گا۔ زر اور زور کی بنیاد پر ملنے والے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔ انتخابات میں مداخلت سے توبہ کر لیں پاکستان میں بھی ترکی کی طرز پر تحریک شروع ہونے والی ہے۔

سابق وفاقی وزیر مولانا امیر زمان، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیر پائو، پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی، پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی، مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما راجہ ظفر الحق، پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین، جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا۔