پاکستان کو مقروض بنانے والوں کا کڑا احتساب کریں گے: عمران خان

تحریک انصاف کے سربراہ 176 ووٹ لے کر پاکستان کے 22ویں وزیراعظم منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ قوم کو مقروض کرنے والے کسی آدمی کو نہیں چھوڑیں گے۔ کسی ڈاکو یا چور کو این آر او نہیں ملے گا۔

پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی سے منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے موقع دیا اور اپنی قوم کا بھی شکر گزار ہوں جب کہ پاکستان کی قوم 70 سال سے تبدیلی کا انتظار کر رہی تھی۔اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں جو تبدیلی ہم لائیں گے قوم اسی کے لیے ترس رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ کڑا احتساب ہوگا اور جن لوگوں نے قوم کو مقروض کیا ایک، ایک آدمی کو نہیں چھوڑوں گا۔عمران خان وعدہ کیا کہ ملک میں وہ تبدیلی لائیں گے جس کے لئے قوم ترس رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک کو لوٹنے والے ایک ایک کا احتساب ہوگا اور کسی ڈاکو سے این آر او نہیں ہو گا۔

انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اپنے وعدے کو دہراتے ہوئے نو منتخب وزیر اعظم نے کہا کہ جو ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں وہ پیسہ واپس لاوں گا۔عمران خان نے کہا کہ چھ ہزار ارب قرضے کو اٹھائیس ارب روپے تک کر دیا گیا۔یہ قرضہ کیسے چڑھا اس کا حساب کریں گے، جو پیسہ عوام کو سہولیات کے لئے تھا وہ لوگوں کی جیبوں میں گیا، اس پیسے کی واپسی کے لئے ایوان میں بحث کریں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نہ مجھے ڈکٹیٹر نے پالا اور نہ میرا باپ سیاسی لیڈر تھا، میں 22 سال کی جد وجہد کر کے اس مقام تک پہنچا ہوں جب کہ میرا قوم سے وعدہ ہے کہ پارلیمنٹ کو بااختیار بناوں گا اور پارلیمنٹ میں کھڑا ہو کر سوال کے جواب دوں گا۔نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ اس ملک میں 6 ہزار ارب سے 28 ارب تک قرضہ چڑھایا گی۔ بچوں کی تعلیم کا پیسا ضائع کیا گیا لیکن ہم لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے اور قوم سے پیسے اکٹھے کریں گے تاکہ کسی ملک کے سامنے بھیک مانگنا اور جھکنا نہ پڑے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ نوجوانوں کی وجہ سے آج یہاں کھڑا ہوں، ان کی حمایت کے بغیر یہاں نہیں پہنچ سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے تاکہ باہر نہ جانا پڑے۔انہوں نے کہا کہ 2013 میں چار حلقوں میں بے ضابطگیاں نکلیں، عدالتی کمیشن میں گئے، ڈھائی کروڑ ووٹ مِسنگ تھے کیوں کارروائی نہیں کی، کیوں ذمہ داروں کا احتساب نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن یا عدالت کے سامنے جائیں ہم نہیں روکیں گے، آپ کو تو پتہ ہی نہیں کہ حلقوں میں ہوا کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پنجاب کے 47 حلقے ایسے ہیں جہاں 3ہزار ووٹوں سے ہارے۔ قومی اسمبلی کے کئی حلقے ایسے ہیں جہاں 4 ہزار ووٹوں سے ہارے، جو مدد کر رہے تھے وہ کیوں نہ جتوا سکے۔انھوں نے کہا کہ آج تک نہ بلیک میل ہوا نہ کوئی کر سکا نہ کوئی کر سکے گا، کوئی این آر او نہیں ملے گا۔ انھوں نے شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ دھرنا دیں، کنٹینرہم دیں گے۔ آپ کیلیے لوگ ہم بھیجیں گے اور دھرنے کیلیے کھانا بھی ہم بھیجیں گے لیکن کسی قسم کے بلیک میل سے نہیں ڈریں گے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے چار ماہ کنٹینر میں گزارے، یہ ایک ماہ گزار کر دکھا دیں۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان قومی اسمبلی میں 176 ووٹ لے کر ملک کے 22ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ ان کے مد مقابل مسلم لیگ [نواز] کے صدر شہباز شریف کو 96 ووٹ ملے۔

جمعہ کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں جب اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن اراکین نے اپنی سیٹیوں پر کھڑے ہو کر گیلریز میں موجود غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر تنقید کی۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب کے برعکس قائدِ ایوان کا انتخاب ڈویژن کے ذریعے ہوتا ہے جس کے تحت ارکان اسمبلی اپنے اپنے امیدواروں کی لابی میں گئے۔ عمران خان کے حامی لابی نمبر اے میں گئے جبکہ شہباز شریف کے حامی لابی نمبر بی میں اکھٹے ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں