وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر منتخب قومی اسمبلی ’مچھلی منڈی‘ بن گئی

عمران خان اور شہباز شریف کی تقریروں کے دوران حکومت اور اپوزیشن کی شدید نعرہ بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر حکومت اپوزیشن دونوں نے قومی اسمبلی کے ایوان کو میدان جنگ بنا دیا ۔ایک دوسرے کے سامنے آ گئے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کی طرف سے سخت ترین احتجاج کیا گیا حکمران جماعت بھی پیچھے نہ رہی اور اپوزیشن کے خلاف نعرہ بازی کرتی رہی۔ سپیکر ڈائس پر چڑھ گئے۔ دونوں جماعتوں کے ارکان ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔

چالیس منٹ تک نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کا گھیرائو کیا گیا۔ وزیر اعظم کی تقریر کے دوران بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان ’’ووٹ کو عزت دو، ووٹ کو عزت دو‘‘،’’جعلی وزیر اعظم، کٹھ پتلی وزیراعظم‘‘ کے نعرے لگائے۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی متوقع اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو تقریر نہ کرنے دی اور ان کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ’’ڈاکو ڈاکو‘‘، ’’گلی گلی میں شور ہے، سارا ٹبر چور ہے‘‘ کے نعرے لگائے۔

وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 45 منٹ کی تاخیر سے 4:15 بجے سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔ سپیکر نے وزیر اعظم کے انتخاب کے طریقہ کار کا اعلان کیا۔ پانچ منٹ کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں اور سارے دروازے بند کر دیے گئے۔ سپیکر نے آغاز میں ہی گیلریوں میں بیٹھے مہمانوں کو انتباہ کر دیا تھا کہ وہ نعرے لگائیں نہ گیلریوں سے تالیاں بجائی جائیں اس دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان نے انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ سپیکر نے اسی شورشرابے ہنگامہ آرائی میں وزیر اعظم کا انتخاب شروع کروایا حکمران جماعت اور اس کے اتحادی جماعتوں کے ارکان نے دائیں لابی جبکہ پاکستان مسلم لیگ اور اسکے اتحادی جماعتوں کے ارکان نے بائیں طرف کی لابی میں جاکر رائے شماری میں حصہ لیا۔

وزیر اعظم کے لیے عمران خان اور شہباز شریف کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ ہوا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور آزاد ارکان غیر جانبدار رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے 51 اور آزاد ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ایوان میں موجود رہے۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا تو پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان ایوان میں آنے کے بعد نواز شریف کی تصاویر اٹھائے سپیکر ڈائس کی طرف نعرے لگاتے ہوئے آگئے اور عمران خان کا گھیرائو کر لیا 4:37منٹ پر پاکستان مسلم لیگ ن کی شدید ہنگامہ آرائی میں سپیکر نے وزیر اعظم کے انتخاب کے نتیجہ کا اعلان کیا کہ عمران خان نے 176جبکہ شہباز شریف نے 96ووٹ حاصل کیے ہیں۔

انھوں نے عمران خان کو وزیر اعظم کی نشست سنبھالنے کے بارے میں کہا تو پاکستان مسلم لیگ ن کے احتجاج کی شدت بڑھ گئی اور عمران خان کیطرف ہاتھ لہراتے ہوئے ’’جعلی وزیر اعظم نا منظور‘‘، ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے لگائے۔ اس شدید ہنگامہ آرائی کے بعد نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کی تقریر میں خلل پڑتا رہا جبکہ ایک موقع پر کارروائی کو ملتوی کرنا پڑ گیا تھا، آدھے گھنٹے تک کاروائی رکی رہی۔

عمران خان نے شور شرابے میں تقریر کی اور نومنتخب وزیر اعظم نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کر لیا ان کی تقریر کے بعد متوقع اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خطاب کے لیے فلور دیا گیا تو ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومتی جماعت کی طرف سے احتجاج شروع کر دیا گیا اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکان سپیکر ڈائس پر چڑھ گئے۔ شہباز شریف کی تقریر اس ہنگامہ آرائی کے باعث سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت اپوزیشن دونوں نے قومی اسمبلی کے ایوان کو میدان جنگ بنا دیا ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مہمانوں کی گیلریوں سے اپوزیشن جماعتوں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ سپیکر کا انتباہ کوئی کام نہ آیا بلاول بھٹو زرداری نے خطاب شروع کیا تو صورتحال پرسکون ہو گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قائد ایوان کے انتخابات میں شکست پانے والے امیدوار اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر میاں شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بنایا جائے۔ تاریخ کی بد ترین دھاندلی کے نتیجے میں عمران خان یہاں تک پہنچے۔ 25جولائی کو ہونے والے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع انتخابات تھے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میا ں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیشن کے ذریعے انتخابی دھاندلی میں ملوث افراد کا پتا لگایا جائے۔ یہ پہلا الیکشن ہے جہاں جیتنے والا بھی رور ہا ہے اور ہارنے والا بھی رو رہا ہے۔ یہ کیسا الیکشن تھا جس کوپوری قوم نے مسترد کردیا، جس میں 16 لاکھ ووٹ مسترد ہوئے،جہاں 3دن تک الیکشن کے نتائج نہیں آئے جبکہ متعدد حلقے ایسے تھے جہاں مسترد ووٹوں کی تعداد جیت کے مارجن سے زیادہ تھی۔ اگر پاکستان میں خوشحالی چاہتے ہیں تو دھاندلی کا پتا لگانا ہو گا تاہم انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم دھاندلی کرنے والوں کو بھاگنے نہیں دیں گے، ہم بطور احتجاج ایوان میں آئے ہیں اور ووٹ کی چوری کا حساب لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ پرلعنت نہیں دیں گے اور نہ ہی ہم اس پر حملہ کریں گے تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھاندلی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔آخری میں انہوں نے حکومتی جماعت کو باور کرایا کہ اگر ہمارے سوالات کا جواب نہ آیا تو اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر نکلیں گی دوسری طرف اسمبلی میں شہبازشریف کے خطاب کے دوران ایوان میں شورشراباجاری رہا جہاں تحریک انصاف کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بھی لگائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جو عملی سیاست میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے، نے ایوان میں اپنی پہلی تقریر کرتے کرتے ہوئے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے نمائندہ پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا ۔انھوں نے نو منتخب وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اپنی جماعت نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں وہ ان کے بھی وزیر اعظم ہیں جنہیں انھوں نے گدھے ، زندہ لاشیں اور کالی بھیڑیں قرار دیا تھا۔ توقع ہے کہ نو منتخب وزیراعظم

انتہا پسندانہ سیاست کو ختم کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے نفرت انگیز سیاست سے گریز نہ کیا تو ہم ان کی مخالفت کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج دونوں بڑی جماعتوں نے ایوان میں جو ہنگامہ آرائی کی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا حماقت کی گئی ہے ایسی حماقت کو عوام پسند نہیں کرتے حکومتی جماعت کو تو یہ حرکت زیب ہی نہیں دیتی۔ خونی انتخابات کا سامنا کر کے آئے ہیں دونوں جماعتوں کے اس احتجاج سے عوام مایوس ہوں گے اس قسم کے انتخابات عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بالا دست ہے اس کے تقدس کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ پارلیمینٹ ہی تمام اداروں کی ماں ہے 1973کے آئین کی بنیاد پر یہ ایوان قائم ہوا اور یہ وہی ایوان ہے جو ذوالفقار علی بھٹو شہید کا مرہون منت ہے۔ یہ عوام کا گھر ہے۔ عزت واحترام اور اس کے تقدس کا تحفظ کرنا ہے۔ جناب سپیکر آپ تمام جماعتوں کو بلا تفریق ساتھ لیکر چلیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کوئٹہ، سانحہ پشاور، سانحہ ڈیرہ اسماعیل خان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پرامن، صاف شفاف انتخابات میں ناکام رہا۔ 2018 کے انتخابات دھاندلی زدہ ہیں مساوی مواقع نہیں تھے ہمارا میڈیا بلیک آئوٹ کیا گیا فری اور پوسٹ دونوں دھاندلیاں ہوئیں فارم 45 نہیں دیا گیا۔ آر ٹی ایس بیٹھ گیا تھا۔ پولنگ ایجنٹس کو ملک بھر کے پولنگ سٹیشنز سے نکال دیا گیا ۔ہم جمہوری عمل کی خاطر اس ایوان میں آئے ہیں کہ خدانخواستہ کوئی غیر آئینی حادثہ نہ ہو جائے۔

انھوں نے عمران خان کو ان کے انتخابی وعدے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ قوم کو بتائیں کہ وہ کس طرح ایک کروڑ ملازمتیں ، پچاس لاکھ گھر، صوبہ جنوبی پنجاب بنانے اور آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے اعلانات سمیت سو روزہ پروگرام پرعملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔ ملک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے اور نئی حکومت نے پاکستان کا ایسا بیانیہ اجاگر کرنا ہے کہ اقوام عالم میں ہماری عزت اور وقار بڑھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں