پی ٹی آئی کے امیدوار عثمان بُزدار وزیراعلیٰ پنجاب منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے امیدوار عثمان بزدار ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔پنجاب اسمبلی کے 186 ارکان نے ان کی حمایت کی ہے۔ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ نواز کے حمزہ شہباز شریف 159 ارکان کی حمایت حاصل کرسکے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے 354 ارکان میں سے 345 نے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے عمل میں حصہ لیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا ہے اور اس کے پانچ ارکا ن اس کے بغیر ہی اسمبلی کی عمارت سے باہر چلے گئے۔اس کے ایک رکن نے اسمبلی کے اندر موجود ہونے کے باوجود انتخابی عملی سے لاتعلق ر ہنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعلیٰ کا انتخاب ایوان کی دو حصوں میں تقسیم کے نظام کی بنیاد پر ہوا اور دونوں امیدواروں کے حامی ارکان سے کہا گیا کہ وہ الگ الگ چیمبر میں چلے جائیں ۔ پھر ان کی گنتی کی گئی۔

پی ایم ایل این کے ارکان ملک میں 25 جولائی کو منعقدہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کے لیے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر آئے تھے۔انھوں نے ایوان میں سخت نعرے بازی بھی کی ہے۔

عثمان بزدار نے صوبے کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ ’’جو لوگ ان کے میرٹ پر سوال اٹھا رہے ہیں،انھیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ میرا تعلق پنجاب کے ایک پسماندہ علاقے سے ہے اور یہی وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے میری اہلیت ہے‘‘۔

انھوں نے کہا :’’ میں اس علاقے کے عوام کو درپیش مسائل کو بخوبی سمجھتا ہوں کیونکہ میں خود اس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’’صوبے میں اچھا نظم ونسق ہماری اولین ترجیح ہے۔اس کے بعد اہم اداروں کی مضبوطی کی جانب آگے بڑھیں گے‘‘۔

عثمان بزدار نے یہ وعدہ کیا کہ ’’ہم ’اسٹیٹس کو ‘کو توڑیں گے ۔تمام ارکان اسمبلی کو بااختیار بنایا جائے گا اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے کام کریں گے‘‘۔

یہ توقع کی جارہی تھی کہ پی ٹی آئی کے امیدوار وزیراعلیٰ منتخب ہوجائیں گے کیونکہ اس جماعت کے امیدوار بآسانی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں پر بھی منتخب ہوگئے تھے۔ البتہ وزارت ِاعلیٰ کے امیدوار عثمان بزدار پر مختلف حلقوں اور میڈیا کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ہے۔

ان کے بارے میں یہ رپورٹس منظرعام آئی تھیں کہ وہ اور ان کے والد 1998ء میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوران میں لڑائی میں چھے افراد کے قتل کے مقدمے میں ملوث رہے تھے۔ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں یہ کیس چلا تھا لیکن مقامی جرگے کی مداخلت سے ان کی متاثرہ خاندان سے مصالحت ہوگئی تھی اور انھوں نے مقتولین کے وارثوں کو 75 لاکھ روپے خون بہا کی صورت میں ادا کیے تھے۔

وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار پر تنقید کے بعد پی ٹی آئی کے چئیرمین اور پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان خود ان کے دفاع میں سامنے آگئے تھے اور ان کا کہنا کہ وہ ایک دیانت دار شخص ہیں اور ان کا انتخاب دو ہفتے کے طویل غور وخوض کے بعد کیا گیا ہے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ عثمان بزدار پنجاب کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پانی ، بجلی اور اسپتال ایسی بنیادی ضروریات بھی دستیاب نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں