.

جہانگیر ترین کی عدالتِ عظمیٰ میں نظرثانی کی درخواست مسترد ، تاحیات نااہلی برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالت ِعظمیٰ نے حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) کے بااثر رہ نما جہانگیر خان ترین کی اپنی تاحیات نااہلی کے خلاف دائر کردہ نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے دسمبر 2017ء میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق رکن قومی اسمبلی محمد حنیف عباسی کی دائر کردہ ایک رٹ درخواست پر جہانگیر ترین کو تاحیات قومی اسمبلی کی رکنیت یا کسی عوامی عہدے کا انتخاب لڑنے کا نااہل قرار دیا تھا۔ اس کے بعد جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل کےعہدے سے استعفا دے دیا تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپریل 2018ء میں اپنے ایک تاریخی فیصلے میں قراردیا تھا کہ ان کی آئین کی دفعہ 62 (1) (ف) کے تحت نااہلی تاحیات ہے ۔اس فیصلے کے تحت وہ تاحیات کوئی سرکاری یا عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے ہیں۔تاہم تب انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ کے تاحیات نااہلی کے فیصلے کا ان کے کیس میں اطلاق نہیں ہوتا۔

جہانگیر ترین نے اپنی ناہلی کے خلاف دائرکردہ نظرثانی کی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنے ٹرسٹ شینی ویو لیمٹڈ (ایس وی ایل) اور ایک جائیداد -ہائیڈ ہاؤس- کے بارے میں مخصوص دستاویزات مقدمے کی سماعت کے دوران میں عدالت میں پیش نہیں کرسکے تھے کیونکہ ان کے بارے میں انھیں ذاتی علم تھا اور نہ وہ ان کے قبضے یا کنٹرول میں تھیں۔

عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جمعرات کے روز ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے وکیل سے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے موکل نے بیرون ملک جتنی رقوم بھیجی ہیں ،ان کو بھی وہ ظاہر کریں۔

اس پر وکیل نے کہا کہ عدالت کے حکم میں اس رقم کی مالیت پچاس کروڑ روپے لکھی ہوئی ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے ان وکیل صاحب کو باور کرایا کہ ’’ وفاقی حکومت تو پاکستان سے باہر بھیجی گئی رقوم کی واپسی کے لیے کوشاں ہے۔ کیا حکمراں جماعت کے اتنے بڑے لیڈر نے بھی اس رقم کی وطن واپسی کے بارے میں کچھ سوچا ہے؟‘‘

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بینچ نے دسمبر 2017ء میں جہانگیر ترین کو آئین کی دفعہ 62 (1) (ایف) اور عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی شق 99 کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا اور اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ جہانگیر ترین اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنے تمام اثاثے ظاہر کرنے میں ناکام رہے تھے اور انھوں نے عدالت میں بھی نادرست بیانات جمع کرائے تھے۔اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154( لودھراں) سے ان کی رکنیت کا نوٹی فکیشن واپس لے لیا تھا۔

جہانگیر ترین نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ نے صرف ایک قانونی اصطلاح کی تفہیم کی بنا پر انھیں نااہل قرار دیا ہے۔انھوں نے اپنے استعفے میں لکھا تھا :’’ یہ بہت ہی مایوس کن معاملہ ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے پارلیمنیٹرین کو محض فنی بنا پر نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔چونکہ انھیں پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے اسمبلی کی رکنیت کا نا اہل قرار دیا ہے ،اس لیے وہ اس حکم پر سرتسلیم خم کرتے ہیں‘‘۔