.

شمالی وزیرستان میں سرحدی چوکی پر دہشت گردوں کاحملہ پسپا ، سات ہلاک ، تین زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک سرحدی چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا ہے اور فائرنگ کے تبادلے میں سات دہشت گرد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ایک بیان کے مطابق دہشت گردوں نے سرحدپار افغانستان کے علاقے سے منگل کے روز ایک چیک پوسٹ پر فائرحملہ کیا تھا ۔اس کے جواب میں پاک فوج نے بھی فوری فائرنگ شروع کردی ۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ کی تنصیب کی وجہ سے اب دہشت گرد پاکستانی علاقے میں درانداز ہوکر حملے نہیں کرسکتے۔اس لیے وہ فاصلے سے ہی سرحدی چوکیوں یا پاکستانی اثاثوں پر فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔

23 ستمبر کو شمالی وزیرستان ہی میں دہشت گردوں کے ایک حملے میں ایک کپتان سمیت پاک آرمی کے سات جوان شہید ہوگئے تھے۔فوجی دستوں کی جوابی فائرنگ سے نو حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی علاقے میں 13 ستمبر کو پاک فوج کی سراغرسانی کی بنیاد پر کارروائی میں چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی شہید ہوئے تھے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار افغان علاقے سے شمالی وزیر ستان میں دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کا تعلق ایک جنگجو کمانڈر حافظ گل بہادر کے گروپ سے ہے ۔حافظ گل بہادر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ خود اس وقت افغانستان ہی میں کہیں روپوش ہے اور وہیں سے پاکستان کے علاقوں میں دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

اس گروپ کی جانب سے میران شاہ اور شمالی وزیرستان کے دوسرے ان علاقوں میں حال ہی میں پمفلٹ اور یک ورقی پرچے تقسیم کیے گئے ہیں جہاں بعض قبائلی عمائدین اور جنگجوؤں نے فوج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے شورش پسندی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کی مذمت کی ہے۔ان میں مقامی عمائدین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ فوج اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ کوئی روابط استوار نہ کریں ۔

واضح رہے کہ حافظ گل بہادر نے شمالی وزیرستان میں جنگجو اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف 2015ء کے اوائل میں آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد سے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے ۔اس فوجی کارروائی میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں اور دہشت گردوں کی کمر توڑ دی تھی ۔تاہم زندہ بچ جانے والے بہت سے دہشت گرد افغانستان بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور اب انھوں نے وہاں سے تخریبی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔