.

سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صدر عارف علوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو برطرف کردیا ہے۔وزارت قانون نے اس سلسلے میں جمعرات کو نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف دائر ریفرینس کی سماعت کے بعد انھیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی اور صدر کو بھیجے گئے اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔کونسل نے جسٹس صدیقی کو آئین کی دفعہ 209(6) کے تحت برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018ء کو راول پنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک اجتماع میں خطاب کے دوران میں ملک کے حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا سنگین الزام عاید کیا تھا۔سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس صدیقی کے اس بیان پر از خود کارروائی کی تھی اور ان کے خلاف ریفرینس دائر کیا گیا تھا ۔اس پر انھوں نےبھی اپنا جواب داخل کیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کا یکم اکتوبر کو اجلاس منعقد ہوا تھا اور اس نے جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف دائر ریفرینس کا جائزہ لینے کے بعد انھیں تفاق رائے سے عدالتِ عالیہ کی منصفی کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی اور اپنی یہ سفارش آج ہی حتمی منظوری کے لیے صدر عارف علوی کو بھیجی تھی۔اس پر صدر نے انھیں برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیصلہ غیر متوقع نہیں!

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے قبل ازیں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے اپنی معزولی کی سفارش پر کہا کہ میرے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں۔قریباً تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبیّنہ تزئین و آرائش کے نام پہ شروع ہونے والے ایک بے بنیاد ریفرینس سے پوری کوشش کے باوجود جب کچھ نہیں ملا تو ایک بار ایسوسی ایشن سے میرے خطاب کو جواز بنا لیا گیا ۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی اس تقریر کا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی تھا ۔

انھوں نے کہا کہ میرے مطالبے اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود اس ریفرینس کی کھلی عدالت میں سماعت کی گئی ہے اور نہ میری تقریر میں بیان کیے گئے حقائق کی جانچ کے لیے کوئی کمیشن بنایا گیا۔ میں اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ضمیر، اپنی قوم اور اپنے منصب کے تقاضوں کے سامنے پوری طرح مطمئن اور سرخ رو ہوں ۔

جسٹس صدیقی نے اپنے ردعمل میں مزید کہا ہے کہ ’’ میں ان شاءاللہ اپنا تفصیلی موقف بہت جلد عوام کے سامنے پیش کروں گا اور انھیں ان حقائق سے بھی آگاہ کروں گا جو میں نے اپنے تحریری بیان میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیے تھے اور یہ واضح کرو ں گا کہ قریباً نصف صدی کے بعد ہائی کورٹ کے ایک جج کو اس طرح معزول کرنے کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟‘‘

واضح رہے کہ پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقاتِ عامہ ( آئی ایس پی آر) نے عدالتِ عظمیٰ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے عدلیہ سمیت ریاستی ادارو ں پر سنگین الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل ،میجر جنرل آصف غفور نے جسٹس صدیقی کی مذکورہ تقریر کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک معزز جج نے فاضل عدلیہ اور مرکزی سراغرساں ایجنسی سمیت ریاستی اداروں پر سنگین نوعیت کے الزامات عاید کیے ہیں۔ریاستی اداروں کے وقار اور ساکھ کے تحفظ کے لیے عدالتِ عظمیٰ پاکستان سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ان الزامات کی حقیقت کی چھان بین کے لیے مناسب عمل شروع کرے اور مناسب کارروائی کرے‘‘۔

جسٹس صدیقی نے اپنی تقریر میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلی جنس ) کے اہلکار شریف خاندا ن کے خلاف عدالتی کارروائیوں میں مداخلت کررہے ہیں۔انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ’’ ایجنسی کے اہلکار اپنی مرضی کے مطابق عدالتی بینچ بنواتے ہیں اور انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد انور خان کاسی سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا تھا اور ان سے یہ کہا تھا کہ ’’ ہم نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات سے قبل جیل سے باہر نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے شریف خاندانوں کی اپیلوں کی سماعت کرنے والی بینچ میں شوکت عزیز صدیقی کو شامل نہ کیا جائے‘‘۔تاہم انھوں نے اپنے ان دعووں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھاکہ ’’ میں یہ بات جانتا ہوں کہ کون کس کا پیغام لے کر سپریم کورٹ میں جاتا ہے‘‘۔انھوں نے یہ سوال کیا کہ احتساب عدالت کا انتظامی کنٹرول اسلام آباد ہائی کورٹ سے واپس کیوں لے لیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ’’ عدلیہ کی آزادی کو سلب کر لیا گیا ہے اور یہ اب ان کے کنٹرول میں ہے جن کے پاس بندوقیں ہیں ‘‘۔

جسٹس صدیقی نے کہا کہ ’’مجھے یہ کہا گیا کہ اگر تم ہمارے حق میں فیصلے کی یقین دہانی کراتے ہو تو ہم آپ کے خلاف دائر کردہ دو ریفرینس ختم کردیں گے‘‘۔ان کے خلاف دائر کرپشن کے ایک ریفرینس کی بھی سپریم جوڈیشیل کونسل میں سماعت کی گئی تھی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ستمبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی پیش کش کی گئی تھی۔