.

خاشقجی کیس، ترکی اور سعودیہ کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں: پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے سعودی عرب اور ترکی کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔

’العربیہ‘ ٹی وی چینل کے مطابق پاکستان نے خاشقجی قتل کیس میں‌ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے سعودی عرب کے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔

اسلام آباد نے سعودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزکے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ٹیلیفون پربات چیت کا بھی خیرمقدم کیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" کے مطابق ایک سعودی عہدے دار کا کہنا ہے کہ قونصل خانے میں جمال خاشقجی کی موت مذاکرات کاروں کی ٹیم کی غلطی کے نتیجے میں واقع ہوئی۔ عہدے دار نے باور کرایا کہ "ابتدائی رپورٹیں درست نہیں تھیں جس کے سبب ہم تحقیقات کرنے پر مجبور ہو گئے"۔

مذکورہ عہدے دار کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے تشدد کا استعمال کیا اور احکامات کی خلاف ورزی کی۔ عہدے دار کے مطابق ابتدائی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ خاشقجی کو آواز اونچی کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی جس کے دوران اُن کا دم گُھٹ گیا۔

سعودی عہدے دار نے بتایا کہ خاشقجی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کی خبط الحواسی نے واقعے پر پردہ ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ عہدے دار کے مطابق اس معاملے میں 18 افراد کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے اور ان سے کو حراست میں لے کر تحقیقات جاری ہیں۔